انٹرویو ریختہءِاردو 2020
سوال نامہ: لبنیٰ مقبول غنیمؔ

1۔ آپ کا نام اور آپ کا قلمی نام؟
2۔کہاں اور کب پیدا ہوئے؟
3۔تعلیمی قابلیت؟
4۔ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
5۔اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
6۔پیشہ؟
7۔ اہم سنگ میل
8۔ آپ کے لکھنے کی ابتدا کیسے ہوئی کب سے ہو ئی ؟
9۔ کیا آپ کے خاندان میں کوئی شاعر یا ادیب ہے؟
10۔ کتنی زبانوں پہ عبور حاصل ہے ؟
11۔ آپ کی اب تک کتنی کتابیں پبلش ہوچکی ہیں؟
12۔اخبارات یا رسائل سے وابستگی؟
13۔ پسندیدہ شاعر کون ہے کس سے متاثر ہوئے ؟
14۔ زندگی کا فلسفہ بتائیں ۔ آپکی کی نظر میں؟
15۔ معاشرہ کسے کہتے ہیں ؟
16۔ آج کے دور میں شعراءبھی ہیں ادیب بھی ہیں کتابیں بھی لکھی جارہی ہیں لیکن تہذیب کم ہوتی جارہی ہے کیوں ؟
17۔ آج کل کے ملکی حالات پر آپ کیا کہنے چاہیں گے ؟
18۔ دورِ عروج کے ادب اور زوال یافتہ معاشرے کے ادب میں کیا فرق ہے ؟
19۔ آپ کی نظر میں اعلٰی مقام حاصل کرنے کے لیےکیا ضروری ہے؟
20۔ آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟
21۔ اگر آپ کو سیر سپاٹے کے لئے کہیں بھی کھلی چھٹی ہو تو آپ کہاں جانا پسند کریں گے؟
22۔ پسندیدہ کتاب یا ناول کونسا ہے ؟
23۔ اردو زبان کا مستقبل آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟
24۔ فیس بک کی شاعری کو آپ کیسا دیکھتے ہیں اور فیس بُک کی وجہ سے کیا نقصان پہنچا ہے ادب کو اور کیا فائدہ ہے؟
25۔ محبت کیا ہے آپ کی نظر میں ؟
26۔ شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟
27۔ کوئی ایسے لمحات یا دور جس کے آنے کی خواہش ہو ؟
28۔ آپ کی نظر میں تخلیق کسے کہتے ہیں؟
29۔ ایسی کونسی عادت جو اپنانا چاہتےہوں اور ایسی کون سی عادت گھر والے بھی بیزار ہو تے ہیں ؟
30۔اُردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی پیغام؟
31۔منتخب شاعری یا تحریر؟
32۔ آخر میں نوجوان نسل کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں ؟

جواب نامہ

1۔ آپ کا نام اور آپ کا قلمی نام؟

میرا نام میاں وقارالاسلام ہے اور میں نے اپنا ادبی یا قلمی نام تبدیل نہیں کیا اس لیے میرا قلمی نام بھی یہی ہے۔

2۔کہاں اور کب پیدا ہوئے؟

17 جنوری 1978 کو میری پیدائش ایک ایسی فیملی میں جہاں اقدار اور اصولوں کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی تھی جس کی وجہ سے مجھے ہمیشہ اپنی فیملی کا تعارف کرواتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے۔ میرا تعلق تحصیل میلسی، ضلع وہاڑی کی ایک سرائیکی آرائیں فیملی سے ہے ۔ ہمارے اکثر رشتہ دار بنیادی طور پر زراعت کے پیشہ سے منسلک ہیں۔ ہماری زیادہ تر زمینیں اپنے آبائی علاقہ جلہ جیم میں ہیں۔

3۔تعلیمی قابلیت؟

ماسڑ آف بزنس ایڈمنسٹریشن

4۔ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

ابتدائی تعلیم اپنے مقامی شہر میلسی کے گورنمنٹ پرائمری سکول میلسی سے حاصل کی، اور پھر گورنمنٹ ہائی سکول میلسی سے ہی میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد سی کام اور ڈی کام گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ سے مکمل کیا۔ ریگولر ایجوکیشن کی مکمل تفصیل نیچے دی گئی ہے۔

5۔اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟

انٹرنیشنل سکول آف مینجمنٹ سائنسز (آئی ایس ایم ایس)،نیوپورٹ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، یو ایس اے (لاہور کیمپس، پاکستان) سے 3/1998 – 12/1999 میں ماسڑ آف بزنس ایڈمنسٹریشن ( مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم) کی ڈگری حاصل کی۔ 98-3 کے بیج میں/4.0 3.52 جی پی اے کے ساتھ اور فائنل ٹرم ، ایم آئی ایس میں 4.0/ 3.89 جی پی اے کے ساتھ نمایاں پوزیشن حاصل کی۔

بہاؤدین زکریا یونیورسٹی، ملتان،کامرس ملتان پاکستان گورنمنٹ کالج سے 3/1996 – 3/1998 میں بیچلر آف کامرس (مارکیٹنگ) کی ڈگری حاصل کی۔ (مارکیٹنگ اور سیلز پروموشن میں گروپ پوزیشن ہولڈر رہا)

کیریئر سرٹیفکیشنز: 2001/10 مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل (ایم سی پی)ونڈوز 2000 ایڈوانس سرور کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

2000/ 8 میں انٹرنیٹ سروسس پرووائڈرز (آئی ایس پی) سیٹ اپ میں لینکس ریڈ ہیٹ کے ساتھ (کاروٹ سسٹم ، لاہور کیمپس سے پروفیشنل سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

2000/ 6 میں سسکو سرٹیفائیڈ نیٹ ورک ایسوسی ایٹ (سی سی این اے) ، سیکنڈ اور تھرڈ لیئر سسکو ڈیوائسس پر ہینڈز آن پریکٹس کے ساتھ سسکوکا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

999/ 8 میں انگلش لینگویج سرٹیفکیٹ ( جو برٹش کونسل اور نیوپورٹ یونیورسٹی کے زیر اہتمام تھا) حاصل کیا۔

6۔پیشہ؟

میں ایک پروفیشنل مینجمنٹ کنسلٹنٹ ہوں اور گذشتہ کئی برس سے مختلف سیکڑز میں اپنی خدمات سر انجام دے چکا ہوں جن میں پبلک پے فون سسٹم، پبلک ایڈریس سسٹم، پبلک سرویلنس سسٹم ، پاور ڈائیگنوسٹک سسٹم ، برڈ ر رپیلنٹ سسٹم، ٹرانزٹ میڈیا سسٹم، پبلک ڈسپلے سسٹم ، ملٹی پرپز ایلیویٹرز اینڈ لفٹرز، ملٹی پرپز سیکورٹی ڈورز، بیریرز اینڈ ٹرنسٹائلز ، مارکیٹ سروے، مارکیٹ ریسرچ، کارپوریٹ ٹریننگ اینڈ ایچ آر ڈیویلپمنٹ، وومن ایمپاورمنٹ، چائلڈ لیبر، مائیکرو فنانس، لارج فارمیٹ پرنٹنگ، فارمیسی، ریئل اسٹیٹ، ٹرانسپورٹیشن اینڈ لاجسٹکس وغیرہ اہم ہیں۔ بڑے کاروباری اداروں میں نئی ٹیکنالوجیز متعارف کراونے کا ایک کامیاب ٹریک ریکارڈ ہے، جن میں کئی ملٹی ملین ڈالرز پراجیکٹس شامل ہیں۔

دنیا بھر کی متعددمعروف کمپنیوں کی جدید ایجادات پر ریسرچ بھی کی ہے۔ پاکستان کے لیے بہت سی بین القوامی کمپنیوں کی نمائندگی بھی حاصل کی اور پاکستان میں ان کے پراڈکٹس اور ٹیکنالوجیز کو متعارف بھی کروایا۔ بہت سی ایگزیبیشنز میں بھی حصہ لیا جن میں ، گوادر فرسٹ انٹرنیشنل یگزیبیشن 2018، جدہ کیریئر ایگزیبیشنز ، صنعتی ایگزیبیشنز ، پاور اینڈ انرجی ایگزیبیشنز ، پراپرٹی ایگزیبیشنز ، ایجوکیشنل ایگزیبیشنز ، پاک چین ایگزیبیشنز ، پاک بھارت ایگزیبیشنز ، اور آرٹ اینڈ کلچرل ایگزیبیشنز وغیرہ شامل ہیں۔ انٹرنیشنل ایگزیبیشنز میں شرکت کے لیے کمپنیز کوباقاعدہ کنسلٹنسی بھی فراہم کی۔

گوادر، مری لاہور، اسلام آباد، ملتان اور دیگر علاقوں کے رئیل اسٹیٹ پراجیکٹس کو پاکستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور یورپ اور دیگر ممالک میں انٹرنیشنل مارکیٹنگ نیٹ ورک کے ذریعے متعارف بھی کروایا اور پاکستان میں کئی ملین ڈالرز کی انوسٹمنٹ کروائی۔ کئی کاروباری سیمینارز، ورکشاپس، نیو پراڈکٹ لانچ، سی ای او فورمز وغیرہ کا بھی اہتمام کیا۔ پریس ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کے لئے کور سٹوریز، میڈیا رپورٹس، انٹرویو ز اورسکرپٹ وغیرہ بھی لکھے۔

7۔ اہم سنگ میل

2019ITRP وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ پروگرام
2018ITRP سٹیم سیلز ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2017ITRP انڈسٹریل ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2016 CPEC پاک چائنہ اکنامک کوریڈور ریسرچ پروگرام
2015 SWRP سولراینڈ ونڈ انرجی ریسرچ پروگرام
2014 HMRP ہوم لینڈ سیکوریٹی ریسرچ پروگرام
2013 HTRP ہولو گرافیکس ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2013 SPRP سیکوریٹی پرنٹنگ ریسرچ پروگرام
2012 ALSP ایگریکلچرل اینڈ لائیو سٹاک ریسرچ پروگرام
2011 CSRP کیمونیٹی سکیلز ریسرچ پروگرام
2010 SFRP سی فوڈ ریسرچ پروگرام
2010 AERP الٹرنیٹ انرجی ریسرچ پروگرام
2009 FFRP پری فیبرک سٹیل سٹرکچر زریسرچ پروگرام
2008 MCRP میڈیا سٹی ریسرچ پروگرام
2007 TMRP ٹرانزیٹ میڈیا ریسرچ پروگرام
2007 GPRP گوادر پورٹ ریسرچ پروگرام
2006 HRRP ہیومن ریسورس روبوٹکس ریسرچ پروگرام
2005 PSRP پبلک سرویلینس ریسرچ پروگرام
2005 MSRP مائیکرو فنانس ریسرچ پروگرام
2004 SDRP سوشل ڈیویلوپمنٹ ریسرچ پروگرام
2004 GTRP گرافکس ٹیکنالوجیز ریسرچ پروگرام
2003 CLRP سائبر لاء ریسرچ پروگرام
2003 IFMS انٹرنیشنل فرنچائزنگ منیجمنٹ سسٹم
2003 WTRP وائرلیس ٹیکنالوجی ریسرچ پروگرام
2002 ASRP ایڈوانس سرور ریسرچ کے پروگرام
2001 USCS یونیورسلی سسٹین ایبل کمپیوٹر سویٹ
2000 MAP مئیرمنٹ آف ایڈجسٹ ایبل پرسنیلیٹی
1999 PPMS پبلک پے فون مینجمنٹ سسٹم

8۔ آپ کے لکھنے کی ابتدا کیسے ہوئی کب سے ہو ئی ؟

میری گُم نام شاعری کا آغاز تو شاید میرے ہوش سنبھالتے ہی میرے لاشعور کے کسی کونے میں ہو چکا تھا۔ یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ جواں ہوتے احساسات اور جذبات میں رنگتا گیا۔ 1993 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا، اُس وقت میری عمر تقریباِ 16 سال کے لگ بھگ تھی اور میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔

9۔ کیا آپ کے خاندان میں کوئی شاعر یا ادیب ہے؟

میرے دادا حکیم حاجی میاں قمرالزمان سکلینی مرحوم سرائیکی زبان کے شاعر تھے اور زیادہ تر حمد اور نعت لکھتے تھے۔ ان کے علاوہ میرے نانا نمبردار حاجی میاں محمد رمضان اردو زبان میں افسانہ لکھتے تھے “ملک الموت کے کارنامے” ان کا مشہور افسانہ تھا جو تقریباَ پانچ سو صفحات پر مشتمل تھا۔

10۔ کتنی زبانوں پہ عبور حاصل ہے ؟

سرائیکی، پنجابی، اردو، انگلش پر کافی حد تک عبور حاصل ہے اس کے علاوہ عربی اور چینی زبان سیکھنے کی تھوڑی بہت کوشش ضرور کی تھی مگر زیادہ وقت نہیں دے سکا۔

11۔ آپ کی اب تک کتنی کتابیں پبلش ہوچکی ہیں؟

میری پہلی کتاب کا نام “من کٹہرا “تھا جو سال9 200 میں منظر عام پر آئی ۔ کتاب کی رو نمائی ہوٹل سن فورٹ لاہور میں ہوئی اور پروگرام کی صدارت ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ نے کی۔ میری دوسر کتاب کا نام “مثلِ کلیات”تھا جو 2014 میں مکمل ہوئی۔ میری تیسری کتاب کا نام “شہرِ داغدار” ہے جو کہ 2016 میں مکمل ہوئی ہے۔ میری چوتھی کتاب جو کہ ابھی زیرِ طباع ہے اس کا نام “سوزِ محشر ” ہے۔

میری تین کتابیں: 1۔”من کٹہرا” 2۔” شہرِ داغدا ر” اور 3۔ “سوز محشر ” تینوں مل کر ایک عظیم تصور “اسلامک وے آف لائف” کو بیان کرتی ہیں۔ “من کٹہرا” ہمارے خود کو سمجھنے کے بارے میں ہے کہ ہم کس طرح بنائے گئے ہیں۔ “شہرِ داغدار” ہماری کائنات کے بارے میں ہے کہ کس طرح کائنات تخلیق ہوئی ہے۔ “سوزِ محشر” قیامت کے دن کے بارے میں ہے کہ زندگی کے بعد کیا ہو گا۔ مزید یہ کہ یہ تینوں کتابوں بالترتیب ” نفسِ امارہ” ، “نفسِ لوامہ ” اور نفس متمعئنہ پر بھی بات کرتی ہیں۔

ان تین کتابوں کے علاوہ میری ایک نظموں کی کتاب بھی ہے جو 2017 میں مکمل ہوئی جسے محمد علی احمد صاحب نے ” دل آج بھی مقروض ہے “کے نام سے مرتب کیا ہے۔ شاعری کی کتابوں کے علاوہ میں کالمز کی بھی ایک کتاب مکمل ہے جس کا نام ہے ” مائی لائف نوٹس” اور یہ 2018 میں مکمل ہوئی۔ 2019 میں ایم ایس نالج سیریز کے تحت میں شارٹ بائیو گرافی بھی مکمل ہوئی۔

ان پبلیکیشنز کے علاوہ میری ریسرچ پبلیکیشن سیریز بھی ہیں جو درج ذیل ہیں:

“مثلِ کلیات ریسرچ پبلیکیشن ” محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کی 30 کتابوں سے شاعری کا ایک مجموعہ ہے۔ “مثلِ کلیات” میں ڈاکٹر شہناز مزمل کی شاعری کے علاوہ ان کے ساتھ اور ادب سرائے انٹرنیشنل (دنیا میں معروف اردو ادبی فورم) کے ساتھ میرا 15 سالہ ادبی سفر نامہ بھی ہے ۔

فکرِ سلطان ریسرچ پبلیکیشن میں ڈاکٹر سلطان محمود صاحب ، مینیجنگ ڈائیریکٹر ایکو کئیر کنسلٹینسی سروسز کی 12 سے زیادہ پبلیکیشنز میں سے اہم کالمز کو شامل کیا گیا ہے ان کاملز میں ماحولیات، غذایات، صحت اور حالاتِ حاضر سے متعلق کالمز کو شامل کیا گیا ہے۔

وقارِ سخن ریسرچ پبلیکیشن سیریز

وقارِ سخن نے نام سے میری ایک ریسرچ پبلیکیشن سیریز ہے جس میں 500 سے زیادہ شعراء اور شاعرات کے سخن پارے اور مختصر تعارف شامل ہے اس سیریز کی 10 جلدیں مکمل ہو چکی ہیں ۔

15۔نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟

الف: بیسٹ لائف نوٹس ۔ ریسرچ پبلیکیشن سیریز

اردو کی شاعری کی کتابوں کو علاوہ میری ایک اردو کتابوںسیریز بھی ہے جس کا نام ہے “بیسٹ لائف نوٹس ریسرچ پبلیکیشن سیریز “
بیسٹ لائف نوٹس اپنی نوعیت کا ایک منفرد کتابی سلسلہ ہے۔ ان کتابوں میں میری زندگی کے بہترین نوٹس کی کولیکشن ہے۔ کچھ نوٹس قرانِ مجید کے بارے میں ہیں یعنی جب میں قران پہلی دفعہ پڑھا تو کیا محسوس کیا اور بار بار پڑھنے کے بعد کس نتیجے پر پہنچا۔ پھر کچھ نوٹس حضرت محمدؐ کی ذاتِ اقدس کے حوالے سے ہیں، کچھ انؐ کی زندگی کے اہم پہلوؤں پر اور کچھ انؐ کے آخری خطبہ کے بارے میں۔

اسی طرح قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی کے کچھ اہم واقعات پر کچھ نوٹس میں اور کچھ علامہ اقبال ؒ کی زندگی کے حالات و واقعات پر شامل کیا ہے۔ پھر کچھ مولانا رومی کی حکایتیں اور کچھ دیگر مثالیں وغیرہ جن سے زندگی کے رہنما اصول ڈھونڈے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایک واقعہ مرحوم اشفاق احمد صاحب کی کتاب زاویہ سے بھی لیا گیا ہے۔

کچھ نوٹس میرے پروفیشن اور بزنس کے حوالے سے ہیں ، جو میں نے مختلف شخصیات کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کے دوران قلم بند کئے تاکہ انہیں مزید لوگوں کی رہنمائی کے لئے سامنے لایا جا سکے۔ اسی طرح کچھ نوٹس کا تعلق میرے ادبی اور تعلیمی سفر سے ہے ، جو آج بھی میری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔

کچھ نوٹس کا تعلق پاکستان کے تاریخی، معاشی اور سیاسی پس منظر سے ہے۔ جن میں گوادر سی پورٹ، پاک چین اکنامک کوریڈور، پاک چین سیاسی، عسکری اور معاشی تعلقات اور پاکستان کے موجودہ اور مستقبل کے اہم ترقیاتی منصوبوں وغیرہ کی تفصیل شامل ہے۔ ان میں سے اکثر نوٹس ، میری گوادر سے متعلقہ اہم پبلیکیشنز سے ہے۔

بیسٹ لائف نوٹس میں 100 سے زیادہ لوگ اپنا کم یا زیادہ حصہ ڈالا ہے۔بیسٹ لائف نوٹس کی 10 جلد یں مکمل ہو چکی ہیں ۔

ب: گوادر سے متعلقہ پبلیکیشنز

اردو کی کتابوں کے علاوہ میری 10 دیگر کتابیں ہیں، جن میں 9 گوادر “نیوز بکس” شامل ہیں اور ایک گوادر “ہینڈ بک” شامل ہے۔ یہ کتابیں 150 سے زیادہ نیشنل اور انٹرنیشنل نیوز پیپرز سے نیوز کا تحقیقی مجموعہ ہے۔ نیوز کولیکشن کا تعلق براہ راست گوادر کے تمام میگا پراجیکٹس اور گوادر ڈیپ سی پورٹ سے ہے۔ علاوہ ازیں چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق بھی بہت سی نیوز شامل ہیں۔” گوادر ہینڈ بک” میں ضلع گوادر کی اہم معلومات گوادر پورٹ کی تفصیلات، اہم پراجیکٹس، گوادر کا تصویری سفر ، اہم نقشاجات، اہم اقدامات، اہم بیانات اور گوادر میں مستقبل کے منصوبوں کا احاطہ وغیرہ سب شامل ہے۔

پ: ایم ایس نالج سیریز

ایم نالج سیریز میں شارٹ بائیو گرافیز اور شارٹ انٹرویوز شامل ہیں، اس میں 100 سے زیادہ لوگوں کے تعارف اور 5 سے زیادہ لوگوں کی شارٹ بائیو گرافیرز پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ ایم ایس نالج سیریز میں شامل ادبی ، کاروباری اور سماجی شخصیات اور ان کے ادارے اور فورمز شامل ہیں جن کی کورر سٹوریز کو بھی اس سیریز میں شامل کیا گیا ہے۔

12۔اخبارات یا رسائل سے وابستگی؟

ماہانہ و سالانہ لیٹریری و کمرشل میڈیا رپورٹس، لیٹریری و کمرشل ایونٹ نیوز، لیٹریری و کمرشل انٹرویوز، سپلیمنٹس، ایڈوٹائزنگ، آرٹیکلز، شاعری، ٹی وی ، ریڈیوز اینڈ نیوز پیپر سکریپٹس کی اشاعت اور براڈکاسٹنگ کے حوالے سے 150 سے زیادہ لوکل اور انٹرنیشل میڈیا چینلز سے رابطہ رہا جن میں ریڈیو، نیوز پیپرز، ٹی وی ، میگزینز اور مختلف آن لائن نیوز ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔

13۔ پسندیدہ شاعر کون ہے کس سے متاثر ہوئے ؟

ادب کی دنیا بہت وسیع ہے ، ادب کے آسمان پر ان گنت ستارے ہیں، ہر ستارہ اپنی آب و تاب سے چمک رہا ہے ، جسے دیکھیں اس کا اپنا ایک الگ انداز ہے۔ اٹھارویں صدی سے شرو ع کریں تو میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی، مرزا اسد اللہ خاں غالب، محمد ابراہیم خان، ذوق اور بہادر شاہ ظفر جیسے بڑے نام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انیسویں صدی میں جھانکیں تو امیر مینائی، داغ دہلوی، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، اکبر الہ آبادی، حسرت موہانی، جگر مراد آبادی اور جوش ملیح آبادی جیسے نام نظر آتے ہیں۔ آگے چلتے ہیں تو فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، استاد دامن، حبیب جالب، ناصر کاظمی، منیر نیازی، مصطفیٰ زیدی ، احمد فراز، کشور ناہید، غلام محمد قاصر، پروین شاکر، ثمینہ راجہ، نوشی گیلانی اور ڈاکٹرشہناز مزمل جیسے کئی نمایاں نام نظر آتے ہیں، کس کا نام رکھیں اور کس کا چھوڑ دیں، ادب کے آسمان میں سب کا اپنا اپنا مقام ہے۔ نئے لکھنے والے ادب کے نئے افق تلاش کر رہے ہیں۔

14۔ زندگی کا فلسفہ بتائیں ۔ آپکی کی نظر میں؟

فلسفہ ء حیات:روح وہ چیز ہے جو زندگی کا سبب بنتی ہے جیسا کہ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:

وَیَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الرُّوحِ قُلْ الرُّوحُ مِنْ اٴَمْرِ رَبِّی وَمَا اٴُوتِیتُمْ مِنْ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیلًا

”تمہار ا پروردگار (اس سے ) خوب واقف ہے) اور (اے رسول ) تم سے لوگ روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم (ان کے جواب میں )کہدو کہ روح (بھی) میرے پروردگار کے حکم سے (پیدا ہوئی ہے )اور تم کو بہت ھی ٹھوڑاسا علم دیا گیا ہے “۔

آیت نمبر1 : سورۃ زمر آیت زمر 42

اَللّٰہُ یَتَوَفَّی الۡاَنۡفُسَ حِیۡنَ مَوۡتِہَا وَ الَّتِیۡ لَمۡ تَمُتۡ فِیۡ مَنَامِہَا ۚ فَیُمۡسِکُ الَّتِیۡ قَضٰی عَلَیۡہَا الۡمَوۡتَ وَ یُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤی اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ

اللہ ہی سب کی روحیں قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان کی بھی جن کی موت کا وقت ابھی نہیں آیا ہوتا ان کی نیند (کی حالت) میں پھر ان جانوں کو تو وہ روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہوتا ہے اور دوسری جانوں کو وہ چھوڑ دیتا ہے ایک مقررہ مدت تک بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔

بطور مسلمان ہمارا دوباہ جی اٹھنے پر یقین ہے اس طرح زندگی دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے ایک اس دنیا کی عارضی زندگی اور دوسری اگلی دنیا کی آخری زندگی۔ دونوں جہانوں کی کامیاب زندگی کے لیے ہمارا بنیادی فلسفہ ء ایمان ہی ہمارا فلسفہ ء حیات ہے ۔

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ : ترجمہ:نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔

اگر ہم ایمان پر قائم نہیں تو ہمارا فلسفہ ء حیات بھی قائم نہیں۔ اور اگر ہم اس ایمان پر قائم ہیں تو ہم ایک عظیم فلسفہ ء حیات پر کھڑے ہیں۔

اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا، اور ہمارے ہاتھوں میں بہترین فلسفہ ء حیات دیا۔ دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس فلسفہ ء حیات پر قائم رکھے اور ہمارے قدم مضبوط کرے اور ہمارا خاتمہ بھی ایمان پر ہو! اور یہ بھی دعا ہے کہ آخرت میں ہماری روح بھی کامل اطمینان پانے والی ہو جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

آیت نمبر 3: سورۃ فجر آیت 27-30

ٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ 27؀ڰارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً 28؀ۚفَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ 29؀ۙ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ 30؀ۧ

ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔ اپنے رب کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پس میرے بندوں میں شامل ہو۔ اور میری جنت میں داخل ہو۔آمین

15۔ معاشرہ کسے کہتے ہیں ؟

ایک خطّے میں بسنے والے کچھ دائمی رشتے بنا لیتے ہیں۔ ان دائمی رشتوں کو چلانے کی بنیاد مشترکہ افکار اور احساسات ہوتے ہیں جن کو لوگ قبول کرتے ہیں۔ مزید ، ان افکار کا تحفظ ایک نظام کرتا ہے اور ان سے جو اتفاق نہیں رکھتا اس کو وہ سزا دیتا ہے۔مثال کے طور پر عورت اور مرد کے رشتے کو درست طور سے قائم کرنے کا ذریعہ شادی ہی ہے۔ اگر ایک انسان شادی کے طریقے سے رشتہ قائم کرتا ہے تو لوگ خوشی ظاہر کرتے ہیں اور نظام اس کی اجازت دیتا ہے۔ دوسری جانب شادی کی تنظیم کے باہر اگر کوئ مرد کسی عورت سے رشتہ قائم کرتا ہے تو سماج اس رشتے کو غصّے کی نظر سے دیکھتا ہے اور نظام اس کو اس کو سزا دیتا ہے۔مختلف افکار، جذبات اور نظام کی بنیاد پر انسانی معاشرے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

اسی طرح اگر ہم اسلامی معاشرے کی بات کرتے ہیں تو اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔ جس کی مدد سے مسلمان اپنے معاشرے کو با آسانی امن کا گہوارا بنا سکتے ہیں۔ اگر ہم مسلم ممالک پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں کہ باشندے تو اکثریت میں مسلمان تو ہیں مگر اسلامی ضابطہ حیات کو جزوی طور پر اپنائے ہوئے ہیں ۔ جب اسلامی ضابطہ حیات کی بنیادوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا جاتا ہے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیےہمیں اسلامی ممالک میں افکار، جذبات اور نظا م میں باہمی اختلاف نظر آتا ہے۔ اس لیے، بطور دین وہ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور قران میں تلاوت بھی کرتے ہیں کہ”اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے”(آل عمران:19) مگر ساتھ ہی ساتھ وہ مغربی طرز وتہذیب کی دعوت دیتے ہیں۔ جب کہ وہ تلاوت کرتے ہیں کہ:” نہیں، تمہارے رب کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں آپ کو منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ آپ کریں اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے۔ (النساء 65)

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ایک اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ہماری مدد و فرمائے، آمین

16۔ آج کے دور میں شعراءبھی ہیں ادیب بھی ہیں کتابیں بھی لکھی جارہی ہیں لیکن تہذیب کم ہوتی جارہی ہے کیوں ؟

مہذب قومیں کی تہذیب انہیں یہ نہیں سکھاتی کر ہر ظالم اور سرکش کی جی حضوری کی جائے، بلکہ مہذب قوموں کے باشعور افراد مظلوم کی آواز کواُٹھاتے ہیں، ظلم کے خلاف لکھتے ہیں اور ایک عام آدمی کے درد سمجھتے ہیں اور اس کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں۔ بے حس قوموں کی طرح سب اچھا ہے کا راگ نہیں الاپتے۔ نہ ہی مفلوج قوموں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہتے ہیں کہ اللہ سب دیکھ رہا ہے اللہ خود ہی سب ٹھیک کر دے گا۔ ہم بات کریں گے تو کسی مصیبت میں آ جائیں گے۔ اور لوگ کیا کہیں گے۔ یہ ظالم پہلے والے سے کم ظالم ہے، یہ کرپٹ پہلے والے سے بہتر ہے۔ یعنی بڑا فرعون ہونا ظلم اور چھوٹا فرعون ہونا باعث رحمت، ایسے پڑھے لکھے جاہل اور مصلحت کے ذریعے ہر طرح کے مافیے کو سپیس دیتے دیتے پوری قوم کو اس آگ کی لپیٹ میں لے آتے ہیں۔

چور چھوٹا ہو یا بڑا چور چور ہوتا ہے اور اسے پکڑے جانے کا ڈر ہر وقت ہونا چاہیے، اگر عدالتیں نااہل ہوں چور کو یقین ہو کہ وہ کبھی نہیں پکڑا جائے گا تو وہ کبھی چوری نہیں چھوڑے گا بلکہ چوری کرنے کے ایک سے ایک مہذب رستے ڈھونڈے گا۔ اور عوام ایک طرف تو پستی جائے گی اور دوسری طرف واہ واہ کرتی جائے گی!

ایک عام آدمی حق پر بھی ہو تو بھی کرپٹ اداروں سے ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں اس کی لپیٹ میں نہ آ جائے، ہمارے ملک میں واپڈا، پی ٹی سی ایل، پولیس، ٹیکسیشن ریلوے خواہ کوئی بھی محکمہ ہو ہمیں سارے افسر جلاد نظر آتے ہیں، اور ہم ہر جگہ ہی ان سے ڈر ڈر کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں واسطہ نہ پڑ جائے، حق پر چلنے والے ان افسروں سے ڈر ڈر کر گذرتے ہیں جب کہ چور اور لٹیرے ان کی اوقات سے واقف ہوتے ہیں کہ کس کی کتنی قیمت ہے اور جہاں سے چاہتے ہیں با آسانی گذر جاتے ہیں۔

اگر ہم نے یہ مہذب معاشرہ بنایا ہے تو مجھے افسوس ہے ایسی سوچ پر جو اسے مہذب معاشرہ کہتی ہے جس کے پور پور میں کرپشن کا کینسر بھرا ہوا ہے! اور اس سے زیادہ افسوس مجھے ان پڑھے لکھے جوانوں پر ہے جن کی آنکھوں پر مصلحت کے پردے ہیں اور وہ ظلم کے خلاف آواز آٹھانے کو غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ ظلم کے خلاف بولنا غیر مہذب نہیں ہے بلکہ ظالم کے خلاف نہ بولنا غیر مہذب ہے۔

17۔ آج کل کے ملکی حالات پر آپ کیا کہنے چاہیں گے ؟

یہی کہ پاکستان ہرگز مایوس کن صورتِ حال میں نہیں ہے ۔ ہمیں کبھی بھی اچھی لیڈر شپ نہیں ملی، ہمارے ادارے کمزور سے کمزور ہوتے جا رہے ہیں، عوام میں بھی شعور کا فقدان ہے اور بھی بہت سے مسائل پاکستان کو درپیش ہیں۔ ہم سارا دن پاکستان کی سیاسی پر اور پاکستانی اداروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں یہ سب ہم پاکستان کی محبت میں کر رہے ہوتے ہیں تاکہ پاکستان کو ہرچیز نمبر1 ملے۔ آئیڈل ازم دنیا میں کہیں نہیں ہے، خود امیریکہ بھی اپنی تاریخ کی بد ترین لیڈر شپ کے شکنجے میں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے سب ختم ہو گیا۔

پاکستان ہرگز ہرگز مایوس کن صورتِ حال میں نہیں ہے۔ شاید پاکستان جتنا مضبوط آج ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا۔ آج ہماری ملٹری طاقت کا موازنہ تاریخ کی کسی بھی دور سے نہیں کیا جا سکتا، معاشی لحاظ سے بھی پاکستان جس طرح کے معاہدے چین سے کر چکا ہے اس طرح کے اور اس سطح کے معاشی معاہدے کبھی امریکہ سے بھی نہیں ہوئے۔ 500 بلین ڈالر کی انوسٹمنٹ پاکستان میں 2045 تک ہر حال میں آنی ہے جس کے لیے چائنز کمپنیزگزشتہ 2 دہائیوں سے بھی زائید عرصے سے پاکستان میں دن رات کام کرنے میں مصروف ہیں، دنیا کر سب سے بڑا سولر پلانٹ لگ چکا ہے، سی پیک کو دنیا کے سب سے بڑے روڈ، ریل اور کمیونیکیشن کوریڈور سے ملا جا رہا ہے جن پر 24 گھنٹے کام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے منصوبے جتنے زیادہ اور جتنے بڑے لیول پر آج ہو رہے ہیں کبھی نہیں ہوئے۔ ان منصوبوں کا فائدہ مشرف بھی لینا چاہتا ہے، زرداری بھی لینا چاہتا ہے اور نواز شریف بھی لینا چاہتا ہے اور آرمی بھی لینا چاہتی ہے۔

مگر یقین مانیے ان سارے منصوبوں کے پیچھے سوائے اللہ کی ذات کے اور کوئی نہیں جس نے دنیا کے نقشوں کو تبدیل کرنا شروع کیا، چین معاشی طور پر اتنا مضبوط ہوا کہ اپنے ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے ساتھ ساتھ ایشا کے 60 سے زیادہ ملکوں میں اپنی انوسٹمنٹس کا ایک وسیع نیٹ وورک بنانے کے قابل ہو گیا۔ چائنہ 60 سے زیادہ ملکوں میں ایک ہی وقت میں کام کر رہا ہے، اورچائینہ کر ترقی میں ان 60 سے زیادہ ملکوں کی اپنی ترقی بھی شامل ہے اور اس عظیم کام کے لیے چائنہ کے اندازے کے مطابق 4 سے 8 ٹرلین ڈالر کی انوسٹمنٹ کی جائے گی اور اس میں ولڈ بنک، ایشن ڈویلپمنٹ بنک اور آئی ایم ایف پہلے سے شامل ہیں۔
یہ 60 سے زیادہ ممالک دنیا کی آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ ہیں ، دنیا کے تیل کے وسائل کا 70 فیصد ہیں جب کہ دنیا کی آمدنی کا صرف 30 فیصد ہیں۔ اسی لیے ان میں انوسٹمنٹ پر آمدنی کی شرع بھی ترقی یافتہ ملکوں سے بہت زیادہ ہے۔

ایشا دنیا کی سازشوں کا گھڑ اسی لیے بنا ہوئے ہے کیوں کہ جو ایشیا میں ڈومنیٹ کرے گا وہی دنیا کی اگلی معاشی طاقت ہو گا۔ اور جو ایشیا کی معیشت کا حصہ نہیں بن سکے گا ایسے ترقی یافتہ ملک اگلے دور کے ترقی پذیر ملک ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف غریب ملک اپنے بہتر مستقبل کی جن لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف ترقی یافتہ ملک اپنی ڈوبتی ہوئی معیشت کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

پاکستان میں چائینہ نے تب تک یہ معاہدے نہیں کئے جب تک سب سیاسی جماعتوں اور آرمی سب کو ایک پیچ پر لا کر دستخط نہیں کروا لیے۔ اس کا فائیدہ یہ ہوا ہے کہ یہ آپس میں جتنا بھی لڑیں س پیک کے حوالے سے کبھی نہیں لڑیں گے۔ ہمارے سیاسی حکمران اتنے سیانے نہیں ہیں کہ اس طرح کی صورت حال کو خود جنم دے لیتے جن کی سوچ ہمیشہ سے بانجھ پن کا شکار رہی ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک ایسی لوکیشن دی ہے جو پوری دنیا میں اپنی اہمیت کا لوہا منواتی آ رہی ہے جس کی وجہ سے پہلے ہمیں امیریکہ بیٹھا کر کھلاتا رہا اور اب چایئنہ بیٹھا کر کھلا رہا ہے۔

انڈیا نے بھوٹان میں اپنی فوج داخل کی جس کی وجہ سے چائنہ اور انڈیا کا ایشو گذشتہ دنوں سے کافی شدت اختیار کر گیا تھا کیوں کہ چائینہ نے انڈیا پر واضع کر دیا کہ وہ یہاں سے نکل جائے ساتھ یہ دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر پاکستان اشارہ کرے تو سوڈان میں انڈین آرمی کی طرح کمشیر میں چائینہ کی آرمی بھی داخل ہو سکتی ہے! اور یہ ایک دن ضرور ہونا ہے۔ امریکہ سے تو ہم اخلاقی تعاون کی بھی امید نہیں کر سکتے کیوں کہ امیریکہ کا اندھا پن اس بات سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ اسے دہشت گرد اور حریت پسند کا فرق ہی نہیں معلوم۔

یہ ہماری قوم کے مسلسل صبر کا پھل اور ہماری تمام تر آزمائشوں کا اچھا بہترین بدل ہے۔ اب جو بھی پاکستان اور چائینہ کی دوستی کے خلاف بات کرتا ہے وہ یقینا پاکستان کے روشن مستقبل کے خلاف بات کرتا ہے اور یہ بات آرمی نے تمام سیاسی کارکنوں کو اچھی طرح سے سمجھا دی ہے۔ پاکستان زندہ بعد!

18۔ دورِ عروج کے ادب اور زوال یافتہ معاشرے کے ادب میں کیا فرق ہے ؟

ہمارے ہاں ایک کلچر پایا جاتا چھوٹے میں خود کو بڑے میاں سمجھتے ہیں اور بڑے میاں اپنے بڑے ہونے کا ثبوت نہیں دیتے۔ پھر ہوتا یوں کہ نہ چھوٹے کی عزت بچتی اور نہ بڑوں کا بھرم بچتا دونوں ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے ایک مچلی منڈی کا ساماں بندھ جاتا ہے۔ وکیل کا سب سے بڑا دشمن وکیل، استاد کا سب سے بڑا دشمن استاد، جج کا سب سے بڑا دشمن جج، سیاست دان کا سب سے بڑا دشمن سیاست دان، شاعر کا سب سے بڑا دشمن شاعر اور ادیب کا سب سے بڑا دشمن خود ادیب، ڈاکٹر کا سب سے بڑا دشمن ڈاکٹر اور جرنلیسٹ کا سب سے بڑا دشمن جرنلیسٹ۔ یہ اگر کہیں اپنی کوئی یونین یا گروپ بھی بناتے ہیں تو بڑے میاں ایک طرف اور چھوٹے میاں ایک طرف اور دونوں طبقے ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوتے نظر آتے ہیں اور لوگوں کو یہ نظر آتا ہے کہ آوے کا آوہ ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان سب میں ایک بات یکساں پائی جاتی ہے کہ ایک تو سسٹم ٹھیک نہیں اور دوسرا کہ گورنمنٹ کچھ نہیں کرتی۔ کبھی کسی طبقے کا کسی بھی بات پر تسلی کا جواب موصول نہیں ہوتا۔

ہماری تربیت سکولوں سے کی جاتی ہے جہاں سینئر طلبہ نئے آنے والوں کا بےعزتی سے بھرپور ویلکم کرتے ہیں، مختلف ملازمتوں میں نئے ملازموں سے ہتک آمیز کام لیئے جاتے ہیں جس سے ان کی عزت نفس مر جائے اور پرانے ملازموں کی تسکین پوری ہو جائے کیوں کہ جب یہ میدان میں آئے تھے تو ان کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔

اس کلچر کو ختم کرنے کے لیئے ریگولیشن کی ضرورت ہوتی ہے جس سے سیلف ریسپیک کو پروٹیکٹ کیا جاتا اور ہتک آمیز رویوں کو کرائم کا درجہ دیا جاتا ہے۔ کچھ ملکوں میں اوے کہنا یا انگلی سے اشارہ کرنے کی بھی باقاعدہ سزا ہے۔ ہمارے بزرگوں سے ہمیں کچھ مثالیں ملتی ہیں کہہ بچے ماں باپ کے برابر نہیں بیٹھتے تھے بلکہ نیچے یا پاوں کی طرف بیٹھتے تھے لڑکوں کی نظریں نیچی ہوتی تھیں اور لڑکیوں میں بغیر دوپٹے کے سامنے آنے کا رواج نہیں۔ اساتذہ کی عزت بھی بڑے بزرگوں کی طرح کی جاتی تھی۔ پھر کیا ہوا بڑے میاں اور چھوٹے میاں سب نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔

اللہ فرماتا ہے کہ ایک جماعت دوسری جماعت کو برا نہ کہے ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے اچھی ہو۔ مگر ہم اپنے آپ کو اونچا ثابت کرنے کے لیئے دوسرے کو نیچا دیکھانا فرض سمجھتے سو سب کی عزت جاتی رہتی ہیں۔

ہمارے لیئے ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی مثال کیا ہو سکتی ہے کہ جب بیٹھے ہوتے تھے یا پیدل یا سوار آ رہے ہوتے تھے تو فرق محسوس نہیں ہوتا تھا کہ مالک کون نوکر کون۔ مقام دل میں اتنا کہ ایک دوسرے پہ جان چھڑکی جائے۔ پیٹھ پیچھے بھی کسی کی بے عزتی کرنے کی مثال نہیں مگر اب تو منہ پر بے عزتی کر دی جائے تو سر فخر سے تن جاتا ہے کہ بازی مار لی گئی۔ بڑے میاں اور چھوٹے میاں جب تک آپس میں ایک دوسرے کی حرمت کا تعین نہیں کریں گے رسوائی پوری جماعت پر ہر طرف سے حملے کرتی رہے گی۔ عزت کروانے کے لیے عزت دینی پڑتی ہے اور بڑوں کے عزت کیے بغیر جو مقام ملتے ہیں وہ بھی کھوکھلے ہوتے ہیں۔ اللہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنے اور ایک دوسرے کا بھرم قائم رکھنے کی توفیق دے آمین

19۔ آپ کی نظر میں اعلٰی مقام حاصل کرنے کے لیےکیا ضروری ہے؟

اگر سوچ چھوٹی ہو تو کبھی بھی اعلیٰ مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جب مالی درخت لگاتا ہے، تو پودے بڑے ہوتے ہوتے اس کے قد سے بھی بڑے ہو جاتے ہیں اور یہ وہ وقت ہوتا جب اس کے لگائے ہوئے چھوٹے چھوٹے پودے اسے ڈھیروں پھل دینے لگتے ہیں۔

آپ بھی اپنے اردگرد اپنے ماتحت لوگوں کے لیئے مالی بنیں، اس بات سے نہ ڈریں کہ اگر ان کا قد آپ سے بڑا ہو جائے گا تو آپ چھوٹے پڑ جائیں گے۔ مالی کا کام ایک بڑا کام ہے جو سب کو نصیب نہیں ہوتا۔ آپ پانی دیں بیج ڈالیں نگہداشت کریں اللہ سے ان کے بڑھنے اور بلند ہونے کی دعا کریں اور اد بات کا خوف جانے دیں کہ آپ کا قد چھوٹا ہو گا۔

آپ کا ہر پودا جب تک آپ سے بڑا نہیں ہو گا آپ کے لیئے پھل نہیں لائے گا۔ دل کو بڑا کریں سوچ کو کشادہ کریں، اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کاٹ دیں گے تو نقصان کے سوا آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا۔

20۔ آپ کے خیال میں اچھا ادب کیا ہے؟

اچھا ادب دکھی عوام کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ معاشرے کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کرتا ہے، عوامی مسائل کے حل وضع کرتا ہے، اچھی روایات کا تحفظ کرتا ہے، قومی ویلوز مضبوط کرتا ہے، باہمی ربط اور ہم آہنگی بڑھاتاہے ، معاشی و معاشرتی تناؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سماجی گراوٹ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ادب کے اثرات بچوں سے لے کر بڑوں تک سب میں نظر آتے ہیں، پڑھنے کو اچھا ملتا ہے، سننے کو اچھا ملتا ہے، دیکھنے کو اچھا ملتا ہے، جس سے لوگوں کے ذہنی تناؤ بھی کم ہوتے ہیں اور عوام میں شعور بھی بڑھتا ہے۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ قوم ایک باشعور قوم بن کر سامنے آتی ہے۔

21۔ اگر آپ کو سیر سپاٹے کے لئے کہیں بھی کھلی چھٹی ہو تو آپ کہاں جانا پسند کریں گے؟

مکہ اور مدینہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہیں۔ دونوں ہی مقام بچپن سے ہر مسلمان کےذہن میں تخیل کی جنت بنائے رکھتے ہیں۔ اور ان مقامات کو دیکھنے کی خواہش وقت سے بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ان مقامات کر طرف روانہ ہو رہا ہو یا وہاں سے واپس آیا ہو، اس سے بھی ملنے کا تجسس بڑھ جاتا ہے، کہ اس نے جب پہلی نگاہ ڈالی ہو گی تو کیسا محسوس کیا ہوگا ، جس جس مقام سے گزرا ہو گا تو اس کی کیفیت کیا ہو گئی اور جب وہاں سے واپس ہوا ہو گا تو کیا ہوا ہو گا۔ انہیں محبتوں سے بھرے ہوئے دل جب مقامِ مکہ یا مقامِ مدینہ پر پہنچتے ہیں تو طرح طرح کی کیفیات سے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ لوگ اپنے تجربات بتاتےبتاتے نہیں تھکتے اور سننے والے ان تجربات کو سنتے سنتے نہیں تھکتے۔ اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی رہتاہے۔

ہر مسلمان کی طرح مجھے بھی حسرت تھی کہ دونوں مقامات پر حاضری کی سعادت نصیب ہو جائے۔ مگر سعادت تو تبھی نصیب ہوتی ہے جب حکم آتاہے۔ سو مجھے بھی حکم ہوا اور راستے کھول دیے گئے مشکلیں ہٹا دی گئی، اور مجھے اپنے تخیل کی جنت میں اُتار دیا گیا۔ دونوں مقامات کی زیارت کے بعد مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے میری تخیل کی جنت میں ایک باغ ہے ، جس کا ایک حصہ مکہ ہے اور دوسرا حصہ مدینہ ہے۔ مکہ کی زیارت کے بعد جب میں مدینہ گیا تو ایسا محسوس ہوا کہ اب سفر مکمل ہوا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ مکہ زیادہ اچھا لگا یا مدینہ زیادہ اچھا لگا، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے دونوں ہی بہت اچھے لگے۔ دونوں کا اپنی اپنی اہمیت اور اپنا اپنا مقام ہے جو اللہ نے رکھ دیا ہے۔ دونوں مقامات کی اپنی ہی کشش ہے۔ جتنا دل مکہ جانے کا کرتا ہے اتنا ہی دل مدینہ جانے کا کرتا ہے، جتنا دل مکہ نا چھوڑنے کا کرتا تھا، اتنا ہی دل مدینہ نہ چھوڑنے کرتا تھا، اور جتنا دل پھر سے مکہ جانے کا کرتا ہے اتنا ہی دل مدینہ دوبارہ جانے کا کرتا ہے۔

جس طرح مکہ میں لوگوں کو اللہ کی یاد میں تڑپتے اور روتے ہوئے محسوس کیا، اسی طرح مدینے میں بھی لوگوں کو صلى الله عليه وسلم کی محبت میں تڑپتے اور روتے ہوئے دیکھا۔ اور خود کو بھی اسی طرح کی کیفیت سے گزرتے ہوئے دیکھا ہے۔ دنوں ہی مقامات عشقِ الہی اور عشق نبوی منزلیں ہیں جو ظاہری طور پر تو الگ الگ ہیں مگر روحانی طور پر آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ دونوں مقامات کی زیارت کے بعد ہی بے چین دل کےاحساس کی تکمیل ہوتی ہے۔ روحانیت کا سفر مکہ سے شروع ہوتا ہے تو مدینہ پر ختم ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہی ایسے مقامات ہیں جن پر ہزار بار حاضری دے کر بھی دل نہیں بھرتا بلکہ تشنگی اور بڑھتی جاتی ہے۔
22۔ پسندیدہ کتاب یا ناول کونسا ہے ؟

جب میں نے پہلی دفعہ قران ترجمے کے ساتھ پڑھا، تو سوچ میں پڑ گیا کہ یہی قران تھا جسے پڑھ کر صحابہ روتے جاتے تھے، پھر یہ سوچا کہ مجھ پہ تو ایسی کیفیت آئی ہی نہیں، پھر یہی سوچ کر قران دوبارہ پڑھنا شروع کیا، پھر وہ پہلی آیت آ ہی گئ جس پر انتہا کی رقعت قائم ہوئی اور 45 منٹ تک میں اس آیت سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

پارہ نمبر 4، آیت نمبر 188، سورت ال عمران
لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ١٨٨
آپ ہرگز خیال نہ کریں کہ جو لوگ اپنے کئے پر خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کئے ان پر ان کی تعریف کی جائے ان کے بارے میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے چھوٹ گئے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

یہ الفاظ میرے کانوں سے گزرتے اور میرے ماضی اور حال کے حالات میرے سامنے گھومنے لگتے، اگر مجھے کبھی کسی نے دھوکہ دیا، تو اس کے پیچھے جھوٹی تعریفیں ہی نظر آئیں، اور پروفیشنل لائف میں بہتر سے بہترپراگرس کے لیے ہمیں یا اپنی کمپنی یا اپنے پراڈکٹس یا اپنی سروس کی خاطر خواہ تعریف کرنی یا کروانی پڑتی۔ میری زندگی کی فلاسفی کو بدلنے کے لیے یہ ایک آیت کافی تھی۔
میں اپنے آپ کو اسی دن سے مسلمان سمجھتا ہوں، اسلام کی روح کیا ہوتی ہے، اللہ کو یاد کیسے کیا جاتا ہے اس کے لیے رویا اور تڑپا کیسے جاتا ہے، میری ذات اس طرح کی کسی بھی کیفیت سے سطحی طور پر بھی نا واقف تھی۔

قران پڑھیئے، دنیا میں ہماری ذات کو جھنجوڑنے کے لیے اس سے بڑی اور کوئی چیز نہیں اتاری گئی! اسی لئے اسے مضبوطی سے پکڑنے کا حکم ہے۔ ایک اور جگہ اللہ فرماتا ہے، کیا تمہیں پوری زندگی میں اتنا وقت نہیں ملا تھا، کہ ایک دفعہ قران پڑھ لیتے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو قران پڑھنے ، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے، اور اپنی ہدایت کے راستے پرثابت قدم رہنے کی طاقت بھی دے، امین۔

23۔ اردو زبان کا مستقبل آپ کیسے دیکھتے ہیں ؟

کسی بھی عمارت کو کھڑا کرنے سے پہلے اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ اس پر ایک بڑی عمارت کھڑی ہو سکے۔ اگر بنیادیں کمزور اور کھوکھلی ہوں تو اس پر کچھ کھڑا نہیں ہو سکتا۔ آج ہمیں ہر ادارے اور محکمے میں بڑے بڑے مسائل نظر آتے ہیں جن کی وجہ یہ ہے کہ ان کی بنیادیں مضبوط نہیں۔ صحافت کی بنیاد انفارمیشن پھیلانا ہے مگر صحافت ہمیں سوائے ڈس انفارمیشن کے اور کچھ کچھ پھیلاتے نظر نہیں آتی، غیر حتمی ذرائع سے پورا ہفتہ چلنے والی خبر حتمی نہیں نکلتی تو پھر ایک ہفتہ عوام کا سر کھانے والے میڈیا کا سر کھولنا بنتا ہے یا نہیں۔

ہماری ادبی صورتِ حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں، ایسا نہیں ہے کہ اردو ادب فروغ نہیں پا رہا ، اردو ادب جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کا معیار اتنی ہی تیزی سے گر رہا ہے کیوں کہ اردو کو فروغ دینے والے ادارے اپنا کردار ادا نہیں کر رہے۔ من پسند لوگوں کو بڑی آسانی سے اوپر لایا جا سکتا ہے اور معیاری کام ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔

جہاں تک لوگوں کا اپنی ذاتی حیثیت میں کام کرنے کا معاملہ ہے ، بہت سے لوگ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور اردو ادب کے حقیقی فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اردو ادب کی بے لوث خدمت بھی کی جا رہی ہے مگر ادب کی خدمت کرنے والوں کی کوئی خدمت نہیں کرتا بلکہ ان کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا جاتا۔ جیسے حقیقی ادب لاوارث ویسے ہی حقیقی ادیب لاوارث۔

اردو کے فروغ کے لیے ہمیں چاہیئے کہ جن لوگوں نے اردو ادب میں اپنی زندگی صرف کر دی ان کے کام کو ایک جگہ اکھٹا کیا جائے اور اسے اگلی نسل تک پہنچایا جائے تاکہ ہماری نئی نسل اپنے کام کا آغاز وہی سے کرے جہاں سے موجودہ نسل اپنے کام کا اختتام کرے ۔ نہ کے نئی نسل کو اپنا کام پھر سے صفر سے ہی شروع کرنا پڑے۔

24۔ فیس بک کی شاعری کو آپ کیسا دیکھتے ہیں اور فیس بُک کی وجہ سے کیا نقصان پہنچا ہے ادب کو اور کیا فائدہ ہے؟

فیس بک خود شاعری نہیں کرتی بلکہ ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جس پر ہم جس طرح کے ادب کو چاہیں متعارف کروا سکتے ہیں۔ فیس بک اپنے آپ میں ایک دنیا ہے جس میں ہر طرح کے لوگ پوری دنیا سے شامل ہوتے ہیں۔ اس کا اپنا ایک الگ کلچر ہے جو کہ بہت سی پابندیوں سے آزاد ہے۔ اس دنیا کے اندر آپ اپنی ایک الگ دنیا بناتے ہیں جس میں آپ کے جاننے والے اور ناواقف لوگ شامل ہوتے ہیں۔ پھر آپ ان لوگوں تک اپنا پیغام پہنچاتے بھی ہیں اور ان کے پیغام کو پڑھتے بھی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے فیس بک میں آپ کو بہت سی سہولیات فراہم کر دی ہیں جس میں آپ اردو ادب کی تحریر، آواز اور ویڈیو تک شئیر کر سکتے ہیں مذید یہ کہ آپ براہ راست ٹیکسٹ، آڈیو اور ویڈیو پیغام کا تبادلہ بھی کر سکتے ہیں۔

اگر آپ فیس بک کے کمرشل استعمال کی طرف جاتے ہیں تو آپ اپنی ادبی تخلیق کو بہت سے لوگوں تک رسائی دینے کے لیے اس کی باقاعدہ ایڈورٹائزنگ بھی کر سکتے ہیں اور آپ کا پیغام ہزاروں نہیں ، لاکھوں نہیں، بلکہ کڑوڑوں لوگوں تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس کے لیے آپ کو اپنے گھر یا دفتر سے کہیں اور جانے کی ضرورت بھی نہیں۔

ٹیکنالوجی کے ذریعے ادب کو جو سہولیات ملی ہیں وہ شائید ہمیں اپنی حقیقی دنیا میں بھی کبھی نہ مل پاتیں۔ یہ وہ سہولتیں ہیں جن کے بارے میں شاید صرف 25 سال پہلے کے شعراء نے بھی کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ دن رات ان سہولیات میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ لاکھوں ادیب اپنی ادبی سرگرمیاں فیس بک پر ڈالتے رہتے ہیں اور اپنی کیمونٹی کو اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ اب تو یوں تصور کیا جاتا ہے کہ ادیب فیس بک پر نہیں وہ سرے ہے موجود ہی نہیں۔ ٹیکنالوجی وقت کی ضرورت ہے اور اسے ضرورت کے مطابق استعمال کر لیا جائے تو اس میں کوئی ہرج بھی نہیں۔

اب اس کا دوسرا رُخ بھی دیکھتے ہیں، فیس بک جتنی بڑی دوکان ہے اس کا پکوان اتنا ہی پھیکا ہے ۔ سو آپ کا بہت سارا وقت بے ذائقہ گزر جاتا ہے اور بعض دفعہ تو انتہائی بد ذائقہ بھی گزرتا ہے۔ جتنی تیزی سے معیاری کام لوگوں تک پہنچتا ہے اس سے دوگنی رفتار سے غیر معیاری کام بھی لوگوں تک پہنچتا ہے۔ جتنی تیزی سے آپ لوگوں کی نظر میں آتے ہیں اس سے دوگنی رفتار سے آپ لوگوں کی نظر سے گر بھی سکتے ہیں ۔ جتنی زیادہ سہولتیں اتنی ہی زیادہ احتیاط۔ پھر فیس بک 9 سے 5 بجے تک بھی نہیں ، کیونکہ یہ 24 گھنٹے چلتی ہے اس لیے یہ آپ کی ذاتی زندگی میں گھس کر آپ کی پرائیویسی کا بھی خاتمہ کر دیتی ہے ۔ بہت سے لوگ اذیت ناک تجربات کی وجہ سے ورچیول سوسائیڈ بھی کر چکے ہیں۔

25۔ محبت کیا ہے آپ کی نظر میں ؟

میری نظر میں محبت ایک قرض ہے اور اس قرض کی پوری قدر کرنی چاہیے ۔جہاں سے محبت نصیب ہو وہاں اسے کم از کم اس کی قدر کے مطابق واپس بھی لوٹانا چاہیے، حالانکہ محبتوں کے قرض پوری طرح اتارے نہیں جا سکتے۔ انسان کے پیدا ہونے سے پہلے محبت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اللہ جس جوڑے سے محبت کرتا ہے اُسے اُن کی محبت کا اور اپنی محبت کا عظیم تحفہ عطا کرتا ہے۔ بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی ماں باپ کی آنکھوں کے تارے بن جاتے ہیں اور جانے کیا کیا خواب والدین ان بچوں کے لیے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر وہ ان خوابوں کی تکمیل کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں کون ہے جو رب کا احسان اتار سکے اور اپنے ماں باپ کا قرض اتار سکے۔ اسی طرح ہمارے اساتذہ اور ہمارے دوستوں کی محبت کا بھی ہم پر قرض رہتا ہے جو ہماری زندگی کو خوبصورت بھی بناتے ہیں اور با مقصد بھی۔ محبت کا قرض محبت سے ہی اتارا جا سکتا ہے، جیسی ہمیں جس جس سے محبت ملی ویسی ہی محبت ہمیں ان سب کو واپس بھی دینی چاہیے اور جو محبت معاشرے نے ہمیں دی وہی محبت ہمیں واپس اسی معاشرے کو بھی دینی چاہیے۔ اور اگر اللہ کا فضل ہمارے ساتھ نہ ہو تو ہمیں کچھ بھی نصیب نہ ہو، اللہ اپنے بندوں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے تو ہم سب سے زیادہ مقروض اس ہستی کے ہیں جس نے ہمیں تخلیق کیا سو ہمیں اپنے خالق کی محبت کا قرض اس سے اور اس کے لوگوں سے محبت کر کے اتارنا چاہیے۔

26۔ شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے شاعری کیا ہوتی ہے ؟

شاعری میری نظر میں ایک خوبصورت احساس ہے، ایسا ہی احساس جیسا ایک مصور کو اپنی تصویر سے ہوتا ہے، ایک باغبان کو اپنے باغ سے ہوتا ہے، ایک فن کار کو اپنے فن سے ہوتا ہے یا پھر ایک تخلیق کار کو اپنی تخلیق سے ہوتا ہے ۔

شاعری میرا سب سے آخری شوق ہے ، جب میرے پاس کچھ بھی اور کرنے کے لیے نہیں ہوتا تو میں شاعری کر لیتا ہوں، اسی لیے میں اپنے آپ کو کبھی بھی باقاعدہ شاعر نہیں کہتا ۔

اتنے کم لگاؤ کے باوجود بھی شاعری میرے لیے بہت کچھ رہی ہے۔ جیسے کہ شاعری میری تنہائیوں اور رتجگوں کی ہمسفر رہی ہے۔ خوشیوں میں عید کے احساس کی طرح رہی ہے، اور غموں میں میری غمگسار بھی رہی ہے۔ میرے احساس کی عکاس بھی رہی ہے اور میرے جذبات کی زبان بھی رہی ہے۔ میں جب بھی تھک کر ہارا یا پھر ٹوٹ کر بکھرا شاعری نے ہمیشہ مجھے سمیٹا اور میری بھرپوری حوصلہ افزائی کی۔

جب میں نے قران کو پڑھنا اور سمجھنا شروع کیا تو شاعری کی وسعت نے ایک معلم کا کردار ادا کیا۔ بہت سی آئیتیں جو میرے دل میں گھر کر گئیں وہ شاعری کی بہروں میں بھی سمو تی چلی گئیں اور زندگی کے نشیب و فراز میں میرے ساتھ ساتھ چلنے لگیں میرے سینے میں ٹھہریں اور میری زبان سے رواں ہوتی رہیں۔

27۔ کوئی ایسے لمحات یا دور جس کے آنے کی خواہش ہو ؟

ویسے تو زندگی کے آسمان پر بہت خوبصورت لمحات کے ستارے جھلملاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ مگر کچھ لمحات ایسے ہیں جن کو مول ادا نہیں کیا جا سکتا۔ سعادت سے بھرے ہوئے جو لمحات خانہ کعبہ کو پہلی نظر میں دیکھتے، خانہ کعبہ کا طواف کرتے، صفا اور مروا کے چکر لگاتے، خانہ کعبہ کے غلاف کو چھوتے، اور ہجرہ اسود کو چومتے ہوئے گزر گئے یقینا ان سے قیمتی اور کچھ بھی نہیں۔ وہ لمحات بھی بہت قیمتی ہیں جو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں روضہء رسول کے پاس گزرے یا پھر جنت البقی کے قریب گزرے۔ ایسے سعادت بھرے لمحات جن کا شکرانہ آج بھی پاک اشکوں سے ادا کیا جاتا ہو ایسے لمحات کو بار بار پا لینے کی خواہش کون نہیں کرتا ہوگا۔ دعا ہے اللہ کسی کو اس سعادت سے محروم نہ کرے اور جسے یہ سعادت نصیب ہو اسے بار بار نصیب ہو ۔۔۔ آمین

28۔ آپ کی نظر میں تخلیق کسے کہتے ہیں؟

خالق نے اپنے حکم سے ہر چیز تخلیق کر دی ہے اور ہم اُس کی بادشاہی میں اپنے حصے کی وہ گھڑیاں گزارتے ہیں جن کا تعین اس نے پہلے سے ہی کیا ہوا ہے۔ انسان کو جوڑ توڑ کا محدود سا علم دیا گیا ہے، میرے خیال کے مطابق انسان کچھ تخلیق نہیں کرتا بلکہ اللہ کے دیے ہوئے علم سے کچھ چیزیں مرتب کرتا ہے اور پھر خود کو ان کا خالق بنا لیتا ہے۔ جبکہ خالق تو صرف اللہ کی ہی ذات ہے۔ ایک خوبصورت آیت ہے کہ
ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں ۔ الحجر، 20،21
سو اللہ جسے چاہتا ہے اپنے وسیع علم میں سے محدود علم عطا کرتا ہے ہمیں اپنے علم یا اپنی تخلیق پر اترانے کی بجائے اُس رب کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے ہمیں اپنے علم میں سے حصہ دیا۔

29۔ ایسی کونسی عادت جو اپنانا چاہتےہوں اور ایسی کون سی عادت گھر والے بھی بیزار ہو تے ہیں ؟

ایک مثال ہے:

فرض کریں اک انسان کے ہاتھ میں کامن پن یا سوئی ہے اور وہ اس کو دوسرے انسان کے جسم پر مارتا ہے یا چبھہو دیتا ہے۔ تو جو تکلیف متاثرہ انسان کو ہوتی ہے، تکلیف دینے والا انسان اُس کی کیفیت یا اُس کےاحساس کو پوری زندگی سمجھنے کی کوشش بھی کرتا رہے تو اُسے سمجھ نہیں سکتا، جب تک کہ وہ سوئی یا کامن پن واپس اسی انسان کو آ کر نہ لگے ۔ ایک انسان کے ہاتھ سے کسی دوسرے انسان کو پہنچنے والی تکلیف کے احساس کو سمجھنے کی اس سے اچھی مثال مجھے پوری زندگی میں کوئی اورنہیں ملی۔

اس مثال نے مجھے کافی حد تک مجھے اپنا آپ تبدیل کرنے میں مدد کی ہے!

میں یہ کوشش کرتا ہوں کہ میرے ہاتھوں سے کسی کو تکلیف نہ ہو، اور میری خواہش ہے کہ میں اپنی اس عادت کو اور مضبوط کروں۔ اسی طرح اس عادت کا دوسرا پہلو جس میں انجانے میں کسی کو تکلیف ہوتی ہے اور تکلیف دینے والے کو اس کا نہ ہی احساس ہوتا ہے اور نہ ہی خبر اس معاملے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ اور زبان کی حفاظت کرے تاکہ میرے ہاتھوں سے کسی کو تکلیف نہ ہو! اور نہ ہی میری زبان سے کسی کو رنج پہنچے! امین۔

30۔اُردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی پیغام؟

اردو ادب سے وابستہ لوگوں سے سوال بھی ہے اور ایک پیغام بھی ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ عوامی شاعر کہاں گئے

جب ایوب خان کا دور آیا

تیرا پاکستان ہے نہ میرا پاکستان ہے
یہ اس کا پاکستان ہے جو صدرِ پاکستان ہے

اقتدار ایوب خان سے جنرل یحییٰ خان کو منتقل ہوا تو حبیب جالب نے اُن کو بھی اسی لب ولہجے سے مخاطب کیا کہ

تم سے پہلے وہ جواک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اُس کوبھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

حبیب جالب کا بھٹو کو “خراج تحسین”

میں قائد عوام ہوں

جتنے میرے وزیر ہیں سارے ہی بے ضمیر ہیں
میں انکا بھی امام ہوں میں قائد عوام ہوں

جنرل ضیاء الحق کا دور آیا تو حبیب جالب نے نئے آمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
ظلمت کو ضیاء صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
اس ظلم وستم کو لطف وکرم اس دکھ کو دوا کیا لکھنا

آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالب صاحب کو کہنا پڑا

وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

بے نظیر کے بعد نوازشریف کا دور شروع ہوا اور اُنہوں نے عوام کے لئے اپنے بلند بانگ دعوے شروع کئے تو عوامی شاعر بیماریوں کی پوٹ بن گئے تھے مگر اُن سے رہا نہ گیا ۔ میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں عوام کے لئے اپنی جان قربان کرنے کا مشہور بیان دیا تھا جس پر جالب نے کہا کہ

نہ جاں دے دو، نہ دل دے دو
بس اپنی ایک مل دے دو
زیاں جو کر چکے ہو قوم کا
تم اس کا بل دے دو

حبیب جالب

ظلم کے خلاف لکھنے کی روایات کم ہوتی جا رہی ہیں، سسکیاں لیتی ہوئی عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
31۔منتخب شاعری یا تحریر؟

الف: منتخب تحریر

قرانِ مجید کا بہترین شاہکار

میری ناقص عقل جس چیز کو قرانِ مجید کا بہترین شاہکارسمجھنے پر آمادہ ہے, میں اسے دوستوں سے ضرور شئیر کرنا چاہوں گا۔ قرانِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر طرح طرح کے مناظرے کئے ہیں، خاص طور پر جب محشر کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کر کے میدانِ محشر کر طرف لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قران میں ہر جماعت کے معاملات بیان کئے ہیں، ان جماعتوں میں ایک گناہ گار جماعت شامل ہے جن کے چہرے سیاہ ہوں گے، ایک دوسری جماعت جو پرہز گاروں کی ہو گی جن کے چہرے روشن ہوں گے اور ایک تیسری جماعت جو سب سے آگے بڑھ جانے والی جماعت ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان جماعتوں کے آپس میں بحث و تکرار کو بھی قلم بند کیا ہے ۔ یہ بحث و مباحثہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔

اور جب وہ دوزخ کو اپنے سامنے دیکھ لیں گے اور انہیں یقین ہو جائے گا کہ وہ اس میں ڈالے جانے والے ہیں تو ہرگناہ گار جماعت طرح طرح کے عذر پیش کرے گی تاکہ کسی نہ کسی طرح دوزخ کے عذاب سے بچ جائے۔ ایک جماعت کہے گی کہ یا اللہ یہ ہمارے بڑے ، ہمارے عالم، ہمارے حکمران، ہمارے آباؤ اجداد، دوست احباب خواہ کوئی بھی جماعت جس نے ان کو بہکایا ہوگا وہ اس کے بارے میں کہیں گے کہ انہیں دوگنا عذاب دیا جائے کیوں کہ انہوں نے ان کی زندگی اور آخرت تباہ کر دی۔ اللہ فرمائے گا کہ ان کو بھی دگنا عذاب اور تم کو بھی دگنا عذاب تم عقل نہیں رکھتے تھے۔ یوں ہر جماعت اس طرح کے عذر قبول نہیں کئے جائیں گے۔

ایک اور جماعت کہے گی کہ یا اللہ ہم سے ہماری زمینیں، جائیدادیں، جاگیریں، سونا وچاندی، کاروبار، بال، بچے اور اہل خانہ خواہ جو کچھ بھی ان کی ملکیت ہو وہ سب لے لیا جائے اور کسی طرح ان کی جان بخشی کر دی جائے۔ اس دن صرف اعمال کے سودے ہوں گے اور کسی سے ان کی ملکیت کا کچھ بھی قبول نہیں کیا جائے گا ۔ ایک اور جماعت یہ کہے گی کہ یا اللہ اگر ہمیں دوبارہ دنیا میں جانا نصیب ہو تو ہم بھی نیک اعمال کریں اور گمراہوں میں نہ ہوں۔ تو ان کی یہ درخواست بھی رد کر دی جائے گی۔ ایک اور جماعت یہ کہے گی کہ یا اللہ ہمیں تو شیطان نے گمراہ کر دیا تھا، تو شیطان جواب دے گا کہ یا اللہ مجھ میں طاقت نہ تھی کہ ان سے کوئی گناہ کروا سکتا میں انہیں دور سے بلاتا تھا اور یہ خود ہی دوڑے چلے آتے تھے۔ تو اس جماعت کا یہ عذر بھی جاتا رہے گا۔یہاں تک کہ ہر گناہ گار جماعت کے ہر طرح کے عذر ان کو واپس کر دیے جائیں گےاور گناہ گار انسان یا جماعت کے ہاتھ میں صرف مایوسی اور بے بسی ہی رہ جائے گی۔

اب گناہ گار انسان یا جماعت کو یہ یقین ہو جائے گا کہ اب سارے عذر ختم ہو گئے ہیں اور بچنے کی کوئی تدبیر باقی نہیں رہی اور اب اس کا ٹھکانہ صرف دوزخ ہے ۔ اور جب دوزخ کے داروغہ انہیں دوزخ کی طرف ہانکتے ہوئے لے جا رہے ہوں گے، اور ان کے چہروں پر رسوائی کے سوا کچھ نہیں ہو گا، اور ان کے دل اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سے پھر ہم کلام ہو گا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اس وقت تمہاری ذات جس قدر بیزار ہو رہی ہے کہ دوزخ میں ڈالی جائے گی، اللہ کی ذات اس سے کئی گناہ زیادہ بیزار ہوتی تھی جب تمہیں ایمان کی طرف دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کی راہ اختیار کیاکرتے تھے۔

تصنیف: بیسٹ لائف نوٹس
مصنف و مرتب : میاں وقارالاسلام
جلد: 1

ب: منتخب حمد و ثنا

حمد باری تعالی

پھیلا ہوا ہے چار سُو یہ رَب کا نور ہے
میں کیا ہوں مجھ کو کس لئیے خود پر غرور ہے

مجھ بے خبر کو آج تک اپنی خبر نہیں
میرے لہو میں دوڑتا رَب کا شعور ہے

حیراں ہے عقل اُس کی عطاﺅں پہ ہر گھڑی
یوں نعمتوں میں بھر دیا رَب نے سرور ہے

رُوشن کتاب خیر و بقاء کی نوید ہے
بے علم اِس کی رحمتوں سے کتنا دور ہے

بدکار ، گناہگار پہ اپنا فضل کیا
توبہ کے در پہ ہوں کھڑا کہ وہ غفور ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام

حمد باری تعالی

زباں ذکرِ الہی سے کبھی خالی نہیں ہوتی
ہوں جیسے بھی مرے حالات بدحالی نہیں ہوتی

یہاں زندہ دلوں پر ہی تو خوشیاں راج کرتی ہیں
اگر چھائی ہو مایوسی تو خوشحالی نہیں ہوتی

کبھی مردہ دلوں کی حسرتیں پوری نہیں ہوتیں
مگر ایمانِ کامل سے بداعمالی نہیں ہوتی

اگر منزل ہی باطل ہو ڈگر سیدھی نہیں ہوتی
مسافت راہِ حق پر ہو تو پامالی نہیں ہوتی

یہاں نظرِ جہاں دیدہ بہت مسرور ہوتی ہے
بدل ڈالے اگر دل سمت ہریالی نہیں ہوتی

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

شاید عمل یہ میرا پسندیدہ نہیں ہے
مایوسیوں سے آنکھ یہ نم دیدہ نہیں ہے

میں کیسے بڑھوں آگے نظر کچھ نہیں آتا
اندھی ہے عقل کیونکہ جہاں دیدہ نہیں ہے

نظریں چرا کے یاں سے چاہوں گا میں گزرنا
رب سے یہ جانو کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں ہے

عاصی نے بھی اپنے پر ہیں ظلم بہت ڈھائے
اور اپنے کیے پر بھی رنجیدہ نہیں ہے

توبہ تو کر لی ڈر کر رب سے وقار تو نے
لگتا ہے تیرا دل تو سنجیدہ نہیں ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہرِداغدار

حمد باری تعالی

چاہا ہم نے سورج کو بھی
چاند سے ہم نے الفت کی ہے

عکس خدا کا ہر ذرے میں
ذروں نے بھی عبادت کی ہے

حیا پروئی ہے نظروں میں
ہر انسان کی عزت کی ہے

اہل وفا سے دنیا بھر کے
ہر باسی نے شرارت کی ہے

رب سے پیار کیا ہے جس نے
اس نے سب سے محبت کی ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: سوزِ محشر

حمد باری تعالی (نظم)

اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے شکر پہ نہ جا مولا
میرا شکر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے صبر پہ نہ جا مولا
میرا صبر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میرے ذکر پہ نہ جا مولا
میرا ذکر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میری نذر پہ نہ جا مولا
میری نذر ہے ہی کیا مولا
اپنے فضل سے کر عطا مولا
میری فکر پہ نہ جا مولا
میری فکر ہے ہی کیا مولا

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہرِداغدار

ب: پہچان غزلیں

اُبھرتے سورج کا سلام تیرے نام کر دیتا
دن کے سارے تام جھام تیرے نام کر دیتا

سردیوں کی دھوپ ساری گرمیوں کی چھاﺅں بھی
موسموں کی سرد شام تیرے نام کر دیتا

اختیار ہوتا گر اس بہار پر میرا
رنگ و بو کے انتظام تیرے نام کر دیتا

دل کی کیفیت کو میں جب بیان کر سکتا
حسرتوں کے سب کلام تیرے نام کر دیتا

قید میں جو کر سکتا ان حسین لمحوں کو
آنے والے سب ایام تیرے نام کر دیتا

شاعر: میاں وقارالاسلام

سُنا ہے آج کی رات چاند نظر نہیں آیا
شاید مجھ سے رُوٹھا تھا جو اِدھر نہیں آیا

دل کی بازی میں تم سے ہار بیٹھا تھا
باز تو پھر بھی اے بازی گر نہیں آیا

دیارِ بے خبر سے ناداں کو میرا تجسس تھا
پر اِدھر بھولے سے بھی وہ بے خبر نہیں آیا

اُسے گلہ ہے میں نے بھلا دیا اُس کو
کیسے اُسے بتاﺅں کب اُس کا ذِکر نہیں آیا
تیرے بغیر در بدر کتنا چلیں گے اب وقار
ہم پہ ٹوٹا قہر جو تجھ کو نظر نہیں آیا

شاعر: میاں وقارالاسلام

یہ جدائی تو بہت مشکل ہے
میرے ہمدم ترے وصال کے بعد

سال گذرا ہے سال گذرے گا
تم تو آﺅ گے ایک سال کے بعد

میری آنکھیں تو بھیگ جاتی ہیں
پھر سے تیرے حسیں خیال کے بعد

دوستی کی مثال کیسے دوں
میرے ہمدم تری مثال کے بعد

میرے سارے جواب ہار گئے
ترے اک لاجواب سوال کے بعد

شاعر: میاں وقارالاسلام

کیسی زمیں کیسا آسماں یارب
عجب حیرت کا مکاں یارب

کوئی تو ہے فرشتہ یہاں
اور کوئی ہے شیطاں یارب

دل اسی بات کو سمجھ نہ سکا
کسے کہتے ہیں انساں یارب

یوں تو انسان نے ترقی کی
اور ہوتا گیا حیواں یارب

مجھے وہ قوتِ گویائی دے
جو ہو تیری بھی ترجماں یارب

شاعر: میاں وقارالاسلام

اُس کی آنکھوں پہ کیا کہا جائے
اُس کے ہونٹوں پہ کیا لکھا جائے

وہ تو ہے زندہ غزل کی صورت
اُس کے بارے میں کیا کہا جائے

اور کبھی بیٹھ کر اکیلے میں
اُس کی آواز کو سنا جائے

وہ اچھوتا خیال ہے اُس کو
خواب طرح سے بُنا جائے

یا کبھی دستِ دعا پھیلا کر کر
واسطے اپنے ہی مانگا جائے

شاعر: میاں وقارالاسلام

آسماں سر پہ کھڑا ہو جیسے
شہر ویران پڑا ہو جیسے

سر نگوں اس طرح ہے سارا نگر
کوئی احسان گڑا ہو جیسے

زندگی ایسا اک نگینہ ہے
دل مفلس میں جڑا ہو جیسے

اس طرح تجھ کو ہے محسوس کیا
تو میرے ساتھ کھڑا ہو جیسے

ایسا احساس دلاتا ہے بشر
سب فرشتوں سے بڑا ہو جیسے

شاعر: میاں وقارالاسلام

چند روز اپنی تم سے جو قربت نہیں رہی
تم سمجھے یہ کہ مجھ کو محبت نہیں رہی

گہرا ہے رگ و جان سے رشتہ تجھ سے
سوچا بھی کیسے تم نے کہ اُلفت نہیں رہی

اِس گردشِ دوراں نے چکرا دیا مجھے
اور مجھ میں سنبھل جانے کی طاقت نہیں رہی

کیا شام ڈھل گئی کسی سائے کی طرح سے
یا دوستوں کو میری ضرورت نہیں رہی

دھاگوں سے زیادہ نازک رشتے ہیں اپنے دل کے
اُلجھے تو اِن کی پہلی سی صورت نہیں رہی

شاعر: میاں وقارالاسلام

تم میری محبت ہو میری سزا نہیں ہو
اک بار کہہ دو مجھ سے کہ تم خفا نہیں ہو

تیرا خیال میری راتوں کا ہمسفر ہے
ان رت جگوں سے پوچھو کہ تم تنہا نہیں ہو

میں تیرے بعد کتنا بے آسرا ہوا ہوں
اپنے ہی دل سے پوچھو تم بے آسرا نہیں ہو

اس بے رخی پہ میری تم بھی تو روٹھتے ہو
پرواہ نہیں جو مجھ کو تم بے پرواہ نہیں ہو

مانا خطائیں میری بے حد شمار ہوں گی
میں بھی نہیں فرشتہ تم بھی خدا نہیں ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام

بتائیں یہ کیسے کہ جذبات کیا ہیں
زباں پہ یہ اٹکی ہوئی اک صدا ہیں

یہ قطرے جو پلکوں پہ ٹھہرے ہوئے ہیں
مسلسل مرے ضبط کی انتہا ہیں

مجھے مثلِ شمع جلاتی ہیں شامیں
یہ دن ہجر کے بھی صبر آزما ہیں

جھکائیں جو پلکیں تو میں نے یہ دیکھا
کوئی بھی نہیں آپ جلوہ نما ہیں

مری شعر گوئی ہے ذکرِ مسلسل
نمازیں مری تیرے حق میں دعا ہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

ذہنوں کو نئی سوچ نرالے خیال دے
یہ شہر داغ دار ہے اِس کو اُجال دے

کیوں قوم بھول بیٹھی ہے اپنی اَساس کو
فرعونیت کو سب کے دلوں سے نکال دے

اِس نے بھلا دیے سبھی افکار اور ہنر
یہ قوم لازوال ہے اِس کو کمال دے

کامل تھا تیرا دین ہے گیا عاملوں کے ہاتھ
بوجہل کو ہمارے سروں سے تو ٹال دے

جانے کیوں لےاُڑی ہے خزاں موسمِ بہار
پھولوں سے خوشبیوں سے چمن کو جمال دے

شاعر: میاں وقارالاسلام

شام و سحر پہ میرے حصے لکھے ہوئے ہیں
ڈھلتے لمحوں پہ میرے قصے لکھے ہوئے ہیں

میرا حال و ماضی میں نے لکھا ہے
باقی افسانوں کے عرصے لکھے ہوئے ہیں

میری غزلیں میرے من کے قصے ہیں
غم جو بھلائے پھر سے لکھے ہوئے ہیں

مردہ دلوں کی آنکھ میں آنسو کب آتے ہیں
سوکھا میرا دامن برسے لکھے ہوئے ہیں

میری زمین بھی مجھ کو کتنا کھا پائے گی
سارے بدن پہ میرے ورثے لکھے ہوئے ہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

ت: منتخب نظمیں

بس اتنی دعا ہے میری

سینے میں غم برابر نہیں
چشمِ پُرنم برابر نہیں
بس اتنی دعا ہے میری
جب اشک پیمانے کھلیں
تم پہ صبر دھانے کھلیں
تم آنسو ﺅں کو پی سکو
تم غموں میں جی سکو
کون غموں سے ابتر نہیں
زندگی پھولوں کا بستر نہیں
پھرسے جینے کا راستہ دے
خدا یا باقی سفر آراستہ دے

بس اتنی دعا ہے میری

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

دل آج بھی مقروض ہے

ریت کے گھروندوں کا
ٹوٹے ہوئے کھلونوں کا
کاغظ کے بیڑوں کا
بارش کے ریلوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

چمکتے ہوئے جگنوﺅں کا
رنگ برنگی تتلیوں کا
کمسن کھلتی کلیوں کا
نِت نئی بہاروں کا

دل آج بھی مقروض ہے

کچے پکے خوابوں کا
بھولی بسری یادوں کا
کٹھی میٹھی باتوں کا
بے نام رشتوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

بن مانگی دعاﺅں کا
تسلسل سے عطاﺅں کا
بے بہا رحمتوں کا
بے شمار نعمتوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

آنکھوںکے سمندر کا
اُمنڈتے قیمتی اشکوں کا
چھلکتے انمول موتیوں کا
بھیگتے کانپتے ہونٹوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

ماں کی محبت کا
باپ کی شفقت کا
بے پناہ اُلفت کا
دونوں کی عظمت کا

دل آج بھی مقروض ہے

ہر روز کی خطاﺅں کا
چھوٹی موٹی سزاﺅں کا
ہلکی پھلکی آہوں کا
محفوظ پناہوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

اُلٹے پھلٹے لفظوں کا
ٹوٹے پھوٹے شعروں کا
ٹیری میڑی باتوں کا
بے عنوان تحریروں کا

دل آج بھی مقروض ہے

کاغذ میں لپٹے خیالوں کا
پل میں گزرے سالوں کا
سوزِعشق کے احوالوں کا
دل میں پھوٹے چھالوں کا

دل آج بھی مقروض ہے

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار
تم شاعری سمجھتے ہو

اپنے احساسات کو
تحریر کیا ہے
میں نے جذبوں کو
الفاظ پہنائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

میں خوشبو کی طرح
بکھرا بھی ہوں
میں نے پھولوں سے
رنگ چرائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

ساون کی طرح
برسا بھی ہوں
ویران آنکھوں میں
آنسو سجائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

شمع کی طرح
دل جلایا ہے
پروانوں کی طرح
پرجلائے ہیں

تم شاعری سمجھتے ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: شہر داغدار

چشمِ آوارہ

اے چشمِ آوارہ
تو چشمِ تَر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی
دل کے ِرشتوں کی
اَگر مگر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

یہ زیرِ جوبن
پڑی مدھوشیاں
یہ َادا میں اُمنڈتی شوخیاں
یہ مغرور سی طبیعت
لڑکھڑاتے ڈگمگاتے
بے سہارا
جذبوں کی لہر میں
ڈوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

یونہی چلتے پھرتے
کسی دن
شام کے وقت
سوچ کی وادیوں میں
کہیں
مجھے دیکھ کے
چونکے گی
پچھلے پہر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

اے حسرتِ دلِ ناداں
تجھے بَر آنا ہے
تو اُٹھ جا
حالات سے لڑنا سیکھ
یہ داستان عشق بھی
رواج کے بھنور میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

ہاں اور ناں کی
زنجیر سے تم
باندھے رکھنا خیالوں کو
زندگی اسی کشمکش
کی زِیر و زَبر میں
ڈُوب جائے گی
تو کہاں جائے گی

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا

محور تم ہو

جام ساغرِ حیات کی
سبھی لہروں بحروں کا
محور تم ہو
نشیب سے فراز تلک تم
رواں جھرنوں کا
محور تم ہو

مانندِ مہتابِ شبِ روشن تم
اور تیرا وصالِ جاں نثار
من کے سمندر میں
اُمنڈتے ہوئے طوفانوں کا
محور تم ہو

چنچل سی کہکشائیں
جب پھیلاتی ہیں
فلک پہ عروسی آنچل
گھٹا کے چلمن سے جھانکتے
اَنگنت ستاروں کا
محور تم ہو

مانندِ شمعِ فروزاں تیرا طلسم
اور محفلِ شب ِ غارت
جلتے ہوئے پروانوں کی
پتھرائی ہوئی آنکھوں کا
محور تم ہو

دل کی دھڑکنیں چلتی ہیں
جن مداروں پہ
تھم تھم کر
اُن اُونچے نیچے
ٹیڑھے میڑھے
راستوں کا
محور تم ہو

شاعر: میاں وقارالاسلام
تصنیف: من کٹہرا

32۔ آخر میں نوجوان نسل کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں ؟

مسکراہٹ اور آنسو دونوں کا تعلق انسان کے احساسات سے ہوتا ہے۔ میٹھی زبان احساسات میں رس گھول سکتی ہے۔ تلخ زبان احساسات کو زخمی کر سکتی ہے۔ نوجوان نسل کے لیے پیغام ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم کسی کے آنسو کی وجہ نہ بنیں۔ ساتھ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ہم کسی کی مسکراہٹ کی وجہ بن سکیں۔ خاص کر کے ہمیں اس بات سے ڈرنا چاہیئے کہ ہماری وجہ سے کسی کی مسکراہٹ نہ دب جائے یا کوئی ہماری وجہ سے اپنے آنسو پی جائے اور ہمیں محسوس بھی نہ ہو۔

دعا گو! میاں وقارالاسلام

www.mianwaqar.com
فاؤنڈر
وقارِ پاکستان لیٹریری ریسرچ فورم
www.waqarepakistan.com
میڈیا ایڈوائزر
ادب سرائے انٹرنیشنل
www.adabsaraae.com
پرنسپل کنسلٹینٹ
مارول سسٹم
www.marvelsystem.com
ڈائیرکٹرآپریشن
نیازی گروپ آف کمپنیز
URL: www.niazigroup.com