آرٹیفشل انٹیلی جینس

/, Featured Notes, Literary News/آرٹیفشل انٹیلی جینس

آرٹیفشل انٹیلی جینس

آرٹیفشل انٹیلی جینس

تحریر: میاں وقارالاسلام

آپ نے ہزاروں سال پرانی ہمزاد کی کہانیاں تو سنی ہوں گی، جس میں یہ کہا جاتا تھا کہ ہر شخص کے ساتھ ایک ہمزاد پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ بھی کہ کچھ انسان اچھی خاصی ریاضت کے بعد اسے اپنے بس میں کر لیتے ہیں اور پھر اس سے اپنے جائز اور ناجائز کام کرواتے ہیں، اور پھر یہ بھی کہ جب انسان بوڑھا ہونے لگتا ہے تو اس کا ہمزاد ایک نیا جسم تلاش کرتا ہے اور پھر اس میں گھس جاتا ہے اور اس طرح وہ ہزاروں سال زندہ رہتا ہے۔ بچپن میں ایسی کچھ کہانیاں میں نے بھی پڑھی تھیں تو تھوڑا تھوڑا یاد ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان شروع سے ہی اپنی پاورز منتقل کرنے کا خواہش مند رہا ہے، یا پھر دوسروں کی طاقت کو اپنے قابو میں کرنے کا خواہش مند رہا ہے جیسے جنوں کو قابو کرنا یا پھر جادو کا سہارا لینا۔ ہم سب نے ان سارے معاملات پر کچھ نہ کچھ پڑھ رکھا ہے اور مختلف کہانیاں سن رکھی ہیں۔ آج بھی کالا جادو اور پتا نہیں کیا کیا ہمارے اردگرد ہو رہا ہے ، شاید یہ بھی اسی خواہش کی کوئی تسکین ہے۔

اب دوسری طرف آتے ہیں سائنسی تحقیق، انسان نے شروع شروع میں مکینکل میشنری بنائی تو اپنے بہت سے کام اس مشین سے لینا شروع کیے یہاں تک کہ میتھی میٹیکل اور لاجیکل پراسس بھی اس نے مشین کے ذریعے مکمل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی اور پھر یہ مکینکل سے ڈیجیٹل دنیا میں آ گیا۔ شروع شروع کی ڈیجیٹل دنیا پراسسنگ اور سٹوریج کے حوالے سے بہت محدود تھی مگر انسان کرنا وہی چاہتا تھا جو وہ آج کرنا چاہتا ہے۔

1951 میں باقاعدہ آرٹیفشل انٹیلی جینس کا پہلا پروگرام لکھا گیا جس کے ذریعے کمپیوٹر شطرنج کی بازی کھیل سکتا تھا۔ مگر ایک تو یہ سسٹم کافی سست تھا پھر یہ جو انسٹرکشنز لے سکتا تھا وہ بہت کم تھیں، 1980 میں جو کمپیوٹر ایجاد کیا گیا وہ 1951 کے کمپیوٹر سے 10 ملین ٹائمز زیادہ تیز تھا اور وقت کے ساتھ اس کی کپیسٹی بھی بہت بڑھ چکی تھی۔ پھر ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ نے انسان کے بہت سے خواب شرمندہ تعبیر کر دیے اور 20 سال سے کم عرصے میں آرٹیفشل انٹیلی جینس اپنے پاؤں پر کھڑی ہو چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دنیا کی شاید 20 سے زیادہ تمام بڑی کمپنیاں اور دنیا کے تمام امیر ترین شخصیات نے اپنا پیسہ آرٹیفشل انٹیلی جینس سیکٹر میں ڈال دیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بدل کر رہ گئی۔

سال 2000 سے ہی ہم آرٹیفشل انٹیلی جینس کی دنیا میں رہتے ہیں اور پچھلے 20 سال سے درجنوں کمپنیاں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں، ہم کمپیوٹر پر جو سافٹ وئیرز استعمال کرتے ہیں یا جو ہارڈ وئیر پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں، یا پھر جو موبائل استعمال کرتے ہیں ان سب کے ہارڈ وئیر اور سافٹ وئیر مکمل طور پر آرٹیفشل انٹیلی جینس کی ایک بڑی دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور پچھے 20 سال سے آرٹیفشل انٹیلی جینس ڈیٹا سینٹرز ہماری حرکات اور سکنات کو پڑھنے اور سمجھنے میں مصروف ہیں۔

20 سال پہلے یہ ٹیکنالوجی آ چکی تھی کہ آپ اپنے موبائل سے اپنے گھر کی تمام چیزیں اور اپنی دور دراز آفس کی تمام برقی چیزیں آن یا آف کر سکیں یا پھر انہیں پروگرام کر سکیں۔ ڈیجیٹل سویچنگ کا کنسیپٹ نیا نہیں ہے۔ اسی طرح مینوفیکچرنگ سیکٹر میں آٹومیشن کا کنسپٹ بھی نیا نہیں ہے یہ سب کچھ ہم 20 سال پہلے کر چکے ہیں اور اس طرح کی سائنس کو اس وقت کے بچے بھی سمجھ چکے تھے۔ مگر اس سب کو عام کرنے میں ایک رکاوٹ تھی انٹرنٹ کی سپیڈ اور اس طرح کے آلات کی لاگت جس وجہ سے کہ عام عوام تک تو نہیں پہنچا مگر بہت سے بڑے دفاتر یا فیکٹریاں اسے پہلے سے ہی اچھی طرح استعمال کر رہی ہیں۔

ڈیجٹل آئی کا کنسپٹ بھی نیا نہیں ہے 20 سال پہلے سنائپر گنز کے ذریعے آر ایف آئی ڈی چیپ جو کہ کوٹیڈ ہوتی تھی جس سے دشمن کو یہ احساس ہی نہ ہو کہ اس کے جس میں کوئی چیپ داخل ہوئی ہے اور وہ مچھر کے کاٹنے جیسی تکلیف سمجھ کر اسے بھول جائے اور پھر اس کی ٹریکنگ کی جا سکے ، اس طرح کے تما م ٹرائل بھی کب کے ہو چکے۔

20 سال پہلے ہی کچھ کمپنیاں انگریزی سپیکنگ کے سافٹ وئیر بنا چکی تھیں اور اس طرح کے سافٹ وئیرز بھی بن چکے تھے جو انسان کی آواز کو سنیں او راس پر رسپانس کریں ۔ یہ انڈسٹری 20 سال پہلے ہی اپنے انویسٹرز کو اپنی طرف مدعو کر چکی ہے اور اس سیکٹرز میں اچھی خاصی سرمایا کاری بھی ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے یہ کمپنیاں اپنے عروج پر ہیں۔

اوکے گوگل، بیکسپی، الیکسا، سیری ان تمام ناموں سے آپ واقف ہوں گے، ان میں سے اکثر ایپلیکیشن 35 سے زیادہ زبانوں میں اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کر چکی ہیں اور نہ صرف انسانی زبانوں کی سیکھنے کی کوشش کر رہی ہیں بلکہ انسان کے موڈ کو سمجھے کی بھی کوشش کر رہی ہیں کے ہم نارمل، یا پھر غصے میں یا پھر پیار میں کس طرح سے بات کر تے ہیں اور ہمیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں پسند اور جانے کیا کیا۔

آرٹیفشل انٹیلی جینس کا اگلا دور وائس کا ہے جس کے بعد آپ اپنے گھر کی ہر چیز سے بات کر سکیں گے، جیسے گھر کے افراد کے نام ہوتے ہیں اسی طرح گھر کی ہر چیز کے نام ہوں گے اور آپ ہر چیز کو اس کے یونیک نام سے بلائیں گے اور پھر اسے ہدایت دیں گے اور اس کے بعد ہر چیز آپ کی ہدایت کے مطابق کام کرے گی۔

ذرا سوچیں کہ آپ کے موڈ کے مطابق گھر کی سیٹنگ ہو جائے، یعنی کھڑکیاں اور دروازے بند ہو جائیں یا کھل جائیں، میوزک لگ جائے، لائٹس کم زیادہ ہو جائیں، اے سی ، ہیٹر یا پنکھوں کی رفتار آپ کے مزاج کے مطابق ہو جائے، اور آپ کمرے سے باہر جائیں تو ہر چیز خود بخود آف ہو جائے۔ آج سائنس کے لیے یہ تمام باتیں انتہائی معمولی ہیں ۔ اور لیبز میں کمپنیاں اس سب سے کہیں زیادہ ایجاد کر چکی ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق آرٹیفشل انٹیلی جینس کی ایک ایک فیلڈ 3 سے 4 ٹریلین ڈالرز کا مارکیٹ سکوپ رکھتی ہے۔ اور وہ بھی 3 سے 5 سالوں میں۔

ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں آرٹیفشل انٹیلی جینس کی زیادہ تر کمپنیا ں امریکہ میں ہیں اور دوسرے نمبر پر چین ہے اور تیسرے نمبر پر یورپ ہے۔ آرٹیفشل انٹیلی جینس مارکیٹ شئیر کے مطابق امریکہ 40 فیصد کے قریب ہے جب کہ چین 32 فیصد پر ہے اور یورپ تقریبا 22 فیصد پر ہے۔ 2019 کے مطابق چین نے 35٪ نئی کمپنیاں خریدی ہیں اور امریکہ نے 27 فیصد نئی کمپنیاں خریدی ہیں جن کا تعلق آرٹیفشل انٹیلی جینس سے ہے اسی طرح 2019 میں امریکہ کی نسبت چین میں آرٹیفشل انٹیلی جینس سیکٹر میں کہیں زیادہ سرمایا کاری ہوئی ہے۔

چین کچھ وجوہات کی وجہ سے ایک بہتر مارکیٹ سمجھا جاتا ہے، ایک تو چین میں ہنر مند افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کی کاسٹ بھی دنیا کے باقی افراد کی نسبت ایک تہائی ہے، دوسری وجہ ہے وہاں پر پاور اینڈ انرجی جو دنیا کے کسی بھی ملک سے بہت سستی ہے اور تیسری وجہ ہے وہاں پر ایک مضبوط حکومت جس کے پیچھے عوام پوری طرح سے کھڑی ہے۔

آرٹیفشل انٹیلی جینس سیکٹر کی تمام بڑی کمپنیوں کے ایسٹ 20 بلین سے شروع ہو کر سینکٹروں بلینز تک ہیں اور ان تمام کمپنیوں کے نام آپ نے سن رکھے ہوں گے جیسے ایپل، ہواوے، مائکروسافٹ ، سامسنگ، گوگل وغیرہ۔ امریکہ کی کئی کمپنیاں بہت پہلے سے ہی چین میں بین ہیں جس کی وجہ یہی ہے کہ وہ آرٹیفشل انٹیلی جینس سیکٹر کی بڑی کمپنیاں ہیں اور دوسری طرف درجنوں چین کی آرٹیفشل انٹیلی جینس سیکٹرکی کمپنیاں امریکہ میں بھی بین ہیں جین میں موبائل، ٹیلی کام، سرویلینس ، سافٹوئیر، آن لائن سوشل میڈیا ایپس وغیرہ شامل ہیں۔

آرٹیفشل انٹیلی جینس سیکٹر کا معاملہ 20 سالہ جدوجہد کے بعد ایک فیصلہ کن مراحلے میں شامل ہو چکا ہے اور جو جیتا وہی سکندر۔

کرونا، جہاں تک سائنس کہتی ہے ایک قدرتی وبا ہے اور اس کی کسی لیب سے لیک ہونا ابھی تک ثابت نہیں ہوا مگر اسی امتحان سے اس بات کا پتہ ضرور چلتا ہے کہ کون کتنا تیار ہے اور اسی کے پس پردہ جہاں بڑی بری کمپنیوں کو بہت نقصان ہو گا وہی بہت سے کمپنیاں اس تیاری میں بھی ہیں کہ اگلی حکمرانی کن کے پاس ہو گی۔

آرٹیفشل انٹیلی جینس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کے استعمال سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، ہماری نوجوان نسل ، بیوروکریسی، حکومت ، آرمی اور خفیہ اداروں کو چاہیے کہ اس سیکٹر میں اپنا کردار ادا کریں ۔ جو لوگ آرٹیفشل انٹیلی جینس کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے انہیں اگلا دور قبول نہیں کرے گا۔ ہمارے پڑھنے اور لکھنے والے نوجوانوں کو چاہیے کہ نہ خود ڈریں اور نہ کسی اور کو ڈرائیں، بلکہ قدم بڑھائیں اور اس آنے والے دور میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

جو لوگ آئی ٹی کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ انہیں آئی ٹی سیکٹر نے گذشتہ 20 سالوں میں کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا ہے۔ اگلا دور ان کے لیے جیٹ پیک کا کردار ادا کرے گا۔ جو جتنی تیزی سے اس میدان میں آگے آئے گا مستقبل اسی کا ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان حکومت کا ایک اچھا قدم ہے حکومت کو اس طرح کے بہت سے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے، جن ملکوں میں 5 جی پہلے جائے گی وہ بہت تیزی سے آگے نکل جائیں گے، کہتے ہیں جو ڈر گیا وہ مر گیا، شاید اسی لیے ڈرایا جا رہا ہے کہ جو ڈرتے ہیں وہ اس دوڑ سے پیچھے ہٹ جائیں۔ کیوں کہ اگلا دور ڈرنے والوں کا بالکل بھی نہیں ہے۔

پاکستان میں جن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا ہے ، آج لوگ صرف انہیں کو جانتے ہیں ، کیوں کہ یہی وقت سے ہم آہنگ ہیں۔ آرٹیفشل انٹیلی جینس تقریبا ہر شعبے میں انقلاب برپا کر دے گی۔ آج کیا آپ سوچ سکتے ہیں ایک چھوٹا سا کاروبار بھی بغیر کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ کے چل سکتاہے۔ ہرگز نہیں تو پھر بڑے بڑے کاروبار کیسے ہوں گے۔ جو ٹیکنالوجی کی رفتار سے نہیں چلے گا وہ کبھی منزل تک نہیں پہنچے گا۔ آگے بڑھنا ہے تو پھر آگے صرف آرٹیفشل انٹیلی جینس ہی ہے۔

اللہ تعالی ہمارے علم میں اضافہ کرے، کاش حکومت ہمارے آئی ٹی سیکٹر کی سرپرستی کرے اور دنیا کی 100 فیوچرسٹک کمپنیوں میں ایک پاکستان کی کمپنی بھی ہو۔ آپ کی معلومات کے لیے آخری بات عرض کرتا چلوں کہ چین کے ایک کمپنی ہے علی بابا ، آپ کو معلوم ہے یہ صرف ایک کمپنی کتنا کماتی ہے، پاکستان بنگلہ دیش اور انڈیا کی کل کمائی سے بھی زیادہ کماتی ہے۔ اپنے آپ سے سوال کریں، ہمیں ڈرنا ہے یا بڑھنا ہے۔

By |2020-04-29T12:25:25+00:00April 29th, 2020|Corporate News, Featured Notes, Literary News|0 Comments

Leave A Comment