ادب سرائے انٹرنیشل سے ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم تک

/, Literary News/ادب سرائے انٹرنیشل سے ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم تک

ادب سرائے انٹرنیشل سے ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم تک

ادب سرائے انٹرنیشل سے ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم تک

…………………………………..

ادب سرائے انٹرنیشنل کی 30 سالہ ادبی مسافت کا سنہرا دور! 
…………………………………..

ادب سرائے انٹرنیشنل ادبی پروگرامز کا باقاعدہ آغاز 1987 میں ادارے کی تشکیل کے ساتھ ہی ادب سرائے انٹرنیشنل ہیڈ آفس 125 ایف ماڈل ٹاون سے ہو گیا. یہ ایک سنہرے ادبی دور کا آغاز تھا. پانئیرز میں بہت سے نامور شعراء شاعرات اور ادب سے محبت رکھنے والے لوگ شامل تھے جنہیں ہم کبھی بھی بھلا نہیں سکتے۔

ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ نے بطور چئیر پرسن اپنے فرائض سنبھالے اور جناب فیصل حنیف صاحب کو ادارے کی صدارت کا عہدہ دیا گیا ان کے ساتھ جناب محمود سرور صاحب ادارے کے نائب صدر منتخب ہوئے یوں ادارے نے اپنا ابتدائی سفر شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ادبی کارواں بھی بڑھتا گیا اور ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

1990 میں جناب کرامت بخاری اور در انجم صاحبہ نے بطور ادب سرائے انٹرنیشنل جنرل سیکریٹری کے فرائض سنبھالے اور 1996 تک ادارے میں اپنی ادبی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ ان کی ادبی خدمات کو ادارہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

شاہد بخاری کا نام بھی انہیں اہم ادبی ستاروں میں آتا جنہیں ہم نے اپنی ادبی دنیا میں ہمیشہ چمکتا دمکتا اور روشنیاں بکھیرتے ہوئے پایا ہے۔ ویسے تو شاہد بخاری صاحب عرصہ دراز سے ادب سرائے انٹرنیشنل سے منسلک رہے ہیں مگر 1997 سے لے کا 2010 تک ان کی گراں قدر ادبی خدمات جو انہوں نے بطور جنرل سیکریٹری فراہم کیں ادارہ انہیں بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

انہوں نے ادب سرائے انٹرنیشنل کے ساتھ اپنے ادبی تعلق کا اظہار اور پذیرائی اپنی ایک ِخوبصورت غزل میں قلم بند کی ہے جس کا یہاں ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہ جائے گی!

…………………………………..
محفل ِشہناز میں اشعار کا دفتر کُھلا
“رکھیو یا رب یہ در گنجینئہ گوہر کُھلا “
…………………………………..
دوسری سوموار کو ہر ماہ کی ہر شام کو
لائبریری کا ملا کرتا تھا سب کو در کُھلا
…………………………………..
کیوں ادب کے در وہاں اُمت پہ اُس کی بند ہوں
“واسطے جس شہ کے غالبؔ گنبد ِبے در کُھلا “
…………………………………..
ہیں جمع گلزار، حماد، روحی، الیاس و بلال
سبزواری، سعدیہ یہ آسماں سب پر کُھلا
…………………………………..
زیدی و موسیٰ نظامی، فوزیہ، نجمہ، عظیم
واسطی، عثمان، باقی ،سب پہ یہ شہ پر کُھلا
…………………………………..
سائرہ، محمود، رزاقی، سحابی، طارق ، وقارو یمیں
واسطے جن کے ہے قصر ِشاعری کا در کُھلا
…………………………………..
کامراں، کشفی، امیں، عاصم، رضا و صادقہ
کیا سخن ور ہیں اکٹھے کیسا یہ دفتر کُھلا
…………………………………..
مَنفعت، نقوی، صنم، ناظر، سمیع، میجر نصر
ہیں سخن ور کیسے کیسے یہ نہ ٹی وی پر کُھلا
…………………………………..
سیفی و زیبی، خلش، اقبال، شوکت اورحریم
جن کے شعروں سے رہا ہے شعر کا محور کُھلا
…………………………………..
محشر و تسنیم کوثر، کاشف و رضیہ، لطیف
منفرد ہیں شعر گوئی میں نہیں ہم سر کُھلا
…………………………………..
ریحانہ، عذرا، نثار، وفا، خلش، سحر انبالوی
کس کو کہتے ہیں سخن ور ان سے یہ ہم پر کُھلا
…………………………………..
ہیں یہ جاوید، زیبی، طینوش، کرامت اور رفیق
جن کا ایک اک لفظ آتا ہے نظر گوہر کُھلا
…………………………………..
خاصی تُک بندی تو اب شاہؔد بھی کرنے لگ گیا
یوں سرائے میں ادب کی اُس کا یہ جوہر کُھلا
…………………………………..

شاعر: جناب شاہد بخاری

جنرل سیکریٹری ادب سرائے انٹرنیشنل : سال 1997 تا 2010

…………………………………..

2010 کے بعد جناب ندیم اظہر ساگر اور محترمہ صفینہ سلیم چوہدری نے بطور جنرل سیکریٹری 
ادارے میں اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا اور 2017 تک ادب سرائے کے 30 سنہری سال مکمل کئے۔

ادب سرائے اپنے تمام معاونین اور ہمسفر ادبی دوستوں کو اور ان کے ادبی جذبے اور لگن کو سراہتا چلا آیا ہے۔ اور جہاں تک ادارے سے ممکن ہوا تمام اہم شاعروں، ادیبوں، مصنفوں، افسانہ نگاروں، صحافیوں، ادبی تنظیموں کے سربراہوں اور ادب سے محبت رکھنے والے دوستوں کو شہناز مزمل ادبی ایوارڈز کے سلسلے میں شامل کرتا رہا ہے اور ان کی خاطر خواہ پزیرائی بھی کرتا رہا ہے۔

ہم اپنے کارواں کے ہر ستارے کے لیے دعا گو ہیں اللہ انہیں ہر میدان میں کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائے امیں۔

…………………………………..

محترمہ ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ کے نام ایک خوبصورت غزل

آپ میرا یقیں گمان ہیں آپ
لفظ و معنی کا اک جہان ہیں آپ

میں ادب کا ہوں ایک طالبِ علم
علم و دانش کا آسمان ہیں آپ

میرےلفظوں کی آپ حرمت ہیں 
اور تخیل کی بھی اڑان ہیں آپ

آپ نے سوچ کو حروف دئیے
میرے احساس کی زبان ہیں آپ

میں سخن زار میں نکل آیا
راہبر آپ سائبان ہیں آپ

میرا قائم وقار آپ سے ہے
میری پہچان میرا مان ہیں آپ

شاعر: میاں وقارالاسلام

…………………………………..

ادب سرائے انٹرنیشنل نے شاید وہ بھی خواب پورے کئے جو اس نے کبھی دیکھے بھی نہیں تھے۔ ادب سرائے انٹرنیشنل بہت سے لوگوں کا مقروض ہے جن کی مسلسل محبت، لگن، محنت اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے ادب سرائے انٹرنیشنل نہ تھکا، نہ چوکا اور نہ ہی ہارا اور اپنے سفر کو جاری رکھتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن رہا۔

…………………………………..

ڈاکٹر شہناز مزمل
(مادرِ دبستانِ لاہور)
چئیر پرسن ، ادب سرائے انٹرنیشنل

…………………………………..

ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم

…………………………………..

ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ 30 سالہ محبتوں کے قرض کو اب اتارنا شروع کیا جائے۔  اس مقصد کے حصول کے لیے ادب سرائےانٹرنیشنل چئیرپرسن فورم میں سب سے پرانی ساتھی ادبی تنظیموں کو بطورِ پینل اسٹ ساتھ شامل کیا گیا۔ جن میں سید قمر عباس ہمدانی بانی دریچہ ادب ویلفئیر سوسائیٹی پاکستان، خالد نصر چئیرمین دبستانِ خالد نصر، پاکستان، ناصر ملک، سی ای او اردو سخن، میاں وقارالاسلام فاونڈر وقارِ پاکستان، باقر بلال فاؤنڈر اردو سوشل اہم ترین معاونین ہیں۔  

ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم کے تحت پینل اسٹ آرگنازئیش ہمارے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہی ہے، اور اپنے اپنے ادبی حلقوں میں ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم کی نمائندگی کر رہی ہیں اسی طرح ادب سرائے انٹرنیشنل چئیر پرسن فورم بھی اپنے مقامی اور بین القوامی حلقہ احباب میں اپنے پرانے ساتھیوں کو پروموٹ کروانے میں اور محبتوں کے قرض اتارنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

آج ادب سرائے انٹرنیشنل  کی تیسری نوجوان قیادت   جس میں احمد فاروق خان، چئیرمین، ایمان فاروق خان، وائس چئیرپرسن، دانش بن ستار جنرل سیکٹری، شازیہ ستار جوائینٹ سیکٹری کے طور اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔    ادب سرائے انٹرنیشنل اپنی نئی نسل کے خوابوں میں اپنی منزل تلاش کر رہا۔ آج کی  نوجوان نسل ہماری پہلی نسل سے زیادہ شعور اور بیداری رکھتی ہے، ان کے ولولے اور ان کا جوش بھی دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔ ہمیں امید ہے کہ جو کام ہم اپنی زندگیوں میں نہیں کر پائے ، نوجوان نسل ان خوابوں کی تعبیر بنے گی۔

ڈاکٹر شہناز مزمل
(مادرِ دبستانِ لاہور)
فاؤنڈر ،ادب سرائے انٹرنیشنل، چئیر پرسن  فورم

By |2019-05-11T13:28:54+00:00May 11th, 2019|Corporate News, Literary News|0 Comments

Leave A Comment