عمران خان ایک مسلسل جدوجہد اور محنت کا نام

اگر منزل ہی باطل ہو ڈگر سیدھی نہیں ہوتی
مسافت راہِ حق پر ہو تو پامالی نہیں ہوتی

عمران خان نیازی 25 نومبر، 1952 کو میاں والی میں محترمہ شوکت خانم اور اکرام الله خان نیازی کے گھر میں میں پیدا ہوئے۔ عمران خان نے والدین کا واحد بیٹا ہوتے ہوئے چار بہنوں کے ساتھ پرورش پائی ، عمران خان کے والد کا تعلق پشتون اور نیازی قبیلے کے شرمنخیل خاندان سے ہے ، عمران خان نے ایچی سن کالج اور کیتھڈرال سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ،کبلی کالج آکسفورڈ سے اپنی معاشیات کی انڈر گریجویٹ ڈگری سے قبل رائل گرائمر سکول ورکسٹر میں داخل ہوئے ، 1974 میں یونیورسٹی کے دوران عمران خان آکسفورڈ یونیورسٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے ۔
عمران خان اعلیٰ پائے کے آل راونڈرز اور سب سے بڑے فاسٹ بولرز میں سے ہیں جو دنیائے کرکٹ نے دیکھے۔عمران خان نے 1971 سے 1992 کے درمیان پاکستان کیلئے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی اور جب کرکٹ ٹیم نے پاکستان کی جانب سے واحد ورلڈکپ جیتا تو اس وقت ٹیم کے کپتان تھے ، کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد عمران خان نے لاہور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کا آغاز کیا . پھر 1997 میں پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسی پارٹی کا آغاز کیا ۔ عمران خان کے سیاسی آئیڈیل ڈاکٹر اور فلاسفر علامہ محمد اقبال ہیں ۔عمران خان 2002 میں میاںوالی سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور سال 2018 میں پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر اُبھری ہے!

عمران خان میں وہ صلاحیت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے

ایسا احساس دلاتا ہے بشر
سب فرشتوں سے بڑا ہو جیسے

ہمارا قومی کھیل تو ہاکی ہے مگر ہمارے ہاں کرکٹ کے کھیل کو جو اہمیت حاصل ہے وہ شاید کسی دوسرے کھیل کو حاصل نہیں ۔ اگر میں اپنے بچپن کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے وہ تمام دوست یاد آتے ہیں جن سے میرا تعلق کرکٹ کی وجہ سے بنا چاہے وہ سکول ہو ، چاہے کالج ہو، چاہے یونیورسٹی ہے، چاہے اپنے گھر کے قریبی میدان ہوں یا پھر اسٹیڈیم ہوں ، ذہن میں کرکٹ کا ایک وسیع میدان نظر آتا ہے۔ اور یہ تمام رونقیں جس شخص کی وجہ سے ہمیں ملی وہ عمران خان کے علاوہ کوئی اور نہیں!

سوچ کی وسعتوں میں جہاں تک کرکٹ نظر آتی ہے وہیں عمران خان بھی نظر آتا ہے، میرے بچپن کی جتنی یادیں کرکٹ سے وابستہ ہیں اس سے کہیں زیادہ عمران خان سے وابستہ ہیں۔ جب پاکستان کا کسی بھی ملک کے ساتھ میچ ہوتا تھا ایک عجیب سا گرما دینے والا ماحول دیکھنے کو ملتا تھا، چاہے گھر میں فیملی کے ساتھ ہوں یا پھر ہاسٹل میں ایک جنون اور جذبے کی کیفیت ہر چہرے پر پائی جاتی تھی۔ ہم نے بہت سے دوستوں کو عمران خان کی طرح بولتے عمران خان کی طرح بال رکھتے اور عمران خان کے کرکٹ کے سٹائل کو کاپی کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ یہ جذبہ اور جنوں آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

عمران خان کی ڈیکشنری میں ناممکن کا لفظ نہیں ہے

یہاں نظرِ جہاں دیدہ بہت مسرور ہوتی ہے
بدل ڈالے اگر دل سمت ہریالی نہیں ہوتی

یوں تو پاکستان کی کرکٹ میں بہت سے اچھے پلئیر آتے رہے ہیں مگر عمران خان کی شخصیت میں جو کشش تھی ویسی پھر کرکٹر میں دیکھنے کو نہیں ملی۔ اور ولڈ کپ جینے کے بعد تو اس جنوں میں اور اضافہ ہو گیا، جہاں یہ کامیابی پاکستان کے لیے فخر کا باعث تھی وہی یہ کروڑوں بچوں کے لیے بھی باعث مسرت تھی جو عمران خان سے پیار کرتے تھے۔ عمران خان کے نام کی یا تصویر کی شرٹس، کاپیاں، یہاں تک کے ہاسٹل کی دیواریں یا پھر اپنے بیڈ روم کی سجاوٹ لوگوں نے عمران خان کی پزیرائی اور محبت کے اظہار میں کبھی کوئی کمی نہیں کی۔
خوش قسمت ہوتی ہے وہ قوم جیسے عمران خان جیسے لیڈر نصیب ہوتے ہیں

حاکموں کے بارے میں کہتے ہیں فرشتے ہیں
پھر بھی قسمتیں یارب کیوں نہیں سنورتی ہیں

اس کے بعد ہم نے دوسرا دور بھی دیکھا جب عمران خان نے شوکت خانم کی بنیاد رکھی اور کالجوں اور سکولوں میں فنڈ ریزنگ کی اور ملک کے باہر بھی فنڈ ریزنگ کا سلسلہ جاری رہا، بہت سے شاپ کیپرز جنہوں نے شاید کبھی مسجد کے نام پر چندے کا بکس اپنی دکانوں میں نہ رکھا ہو مگر عمران خان کے لیے انہوں کے کھل کر اپنی محبت کا اظہار کیا، شاپنگ مالز اور شاپس پر اکثر شوکت خانم کے بکس دیکھنے کو ملتے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے عمران خان نے کرکٹ سے ہٹ کر ایک سماجی ورکر کے طور پر بھی اپنے آپ کو منوا لیا۔

یہ ایک دیوانے کا خواب تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں بدل دیا۔ کینسر کی بیماری کیا ہوتی اور اس کا متاثرہ خاندان پر کیا اثر ہوتا ہے اس کا احساس مجھے تب ہوا جب اللہ تعالیٰ نے میرے والد کو اس امتحان میں ڈالا، پھر اللہ تعالی نے انہیں تندرستی بھی عطا کر دی مگر جو تکلیف دہ مراحل نظر سے گزرے وہ لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔ عمران خان نے بہت سے مایوس چہروں پر امید کی خوشیاں لکھ دیں اور بہت سے لوگوں کو موت کے منہ سے باہر نکال لانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور ابھی بھی اس سلسلے کو جاری رکھا ہوا ہے۔

عمران خان وہ خوش نصیب شخص ہے جسے ہر دوسرے میدان میں پہلے سے زیادہ پزیرائی ملی ہے

سن رہے ہیں خوش حالی ملک بھر میں پھیلی ہے
کتنی بستیاں یاں پر رزق کو ترستی ہیں

اب سیاست کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے، کرکٹ کے متوالوں کی جان، اور کینسر سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کا محسن ایک نئی پہچان کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ سیاست جو کہ کرپشن کے سفر پر چلتے چلتے اپنے سیاہ ترین دور میں داخل ہو چکی تھی اس میں کوئی شخص آ کر دیا بھی جلائے گا اس کی بھی امید تقریبا نہ ہونے کے برابر تھی۔ اور ہم عملی طور پر کرپشن کے کلچر کو اپنا چکے تھے۔ تو بہت سے لوگوں کو عمران خان کی باتیں عجیب معلوم ہوئیں کیوں کہ ہم اس تصور سے بھی دور جا چکے تھے کہ ہمارا معاشرہ کبھی کرپشن سے پاک بھی ہو سکتا ہے یا پھر کرپشن سے پاک ہونے کا خواب بھی دیکھ سکتا ہے۔

کرپٹ معاشرہ ہوتا کیا ہے، کرپٹ معاشرے میں ایماندار لوگوں کی بلی دی جاتی ہے اور بے ایمان لوگوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ میں نے تقریبا ہر محکمے میں ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو ایمان دار بننا چاہتے تھے مگر سسٹم نے انہیں ذلیل اور رسوا کر کے باہر نکال دیا کیوں کہ وہ پاک بننا چاہتے تھے۔ وہیں میں نے بہت سے لوگوں کو ترقی کرتے ہوئے بھی دیکھا جنہوں نے کرپشن کا رستہ اختیار کیا اور تھوڑے ہی عرصے میں مالا مال ہو گئے۔

پے فون انڈسٹری میں میری پہلی جاب تھی، میرے سامنے سپیڈ منی کی ایک درخواست آئی تو میں نے یہ کہہ کر پے منٹ روک دی کہ رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں دوزخی ہوتے ہیں۔ پے منٹ نہ دینے کی وجہ سے لائن مین نے ایک غریب کا پی سی او بند کر دیا، تیسرے دن شاپ والا اپنے پے فون سیٹ کے ساتھ ہمارے آفس آ گیا اور کہا کہ رشوت نہ دینے کی وجہ سے اس کا چھوٹا سا کل کاروبار بند ہے۔ ہمارے ایک سینئر تھے مرحوم سلیم صاحب انہوں نے مجھے پاس بیٹھایا اور سمجھایا کہ اس غریب شخص نے اپنی بیٹی کے جہیز کا زیور گروی رکھ کر یہ پی سی او لگوایا اور یہی کاروبار اس کا کل وسیلہ ہے اور تین دن سے اس کی روزی بند ہے اب بتاؤکہ کون سا گناہ زیادہ بڑا ہے کسی کی روزی روٹی بند کرنا یا کہ رشوت دے کر اس کے کاروبار کو جاری رکھنا۔ کرپشن کتنی بڑی لعنت ہے اس کا احساس مجھے اپنی پہلی جاب کے پہلے واقعے سے اچھی طرح ہو گیا۔

اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے چڑھاوے کو حرام ٹھہرایا ہے اور سب سے بڑھا چڑھاوا تو ہم اپنی حکومتوں کی طرف چڑھاتے ہیں اور پھر اپنے اوپر ایک نہ ختم ہونے والا فرعونی اور ابلیسی نظام مسلط کر لیتے ہیں اور پھر اس نظام کی پوجا کرتے رہتے ہیں کہ ہم اسی مکڑی کے جال کی وجہ سے زندہ ہیں حالانکہ کہ زندگی کا جال نہیں ہے بلکہ بد ترین موت کا جال ہے ایک ایسا جال جو انسان کو جیتے جی مار دیتا ہے۔

عمران خان جب نئے نئے سیاست میں آئے تو ان کا ایک پروگرام میلسی بار کورٹ میں بھی رکھا گیا، ان دنوں میرے والد صاحب میاں عبدالسلام پریزیڈنٹ بار تھے تو عمران خان سے ملنے اور ان کو تفصیل سے سننے کا موقع مجھے بھی مل گیا۔ خان صاحب اس وقت جو منشور پیش کر رہے تھے وہ روایتی سیاست سے بالکل الگ تھا ، وہ ایک ایسی سوچ بیدار کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس کا وجود ہماری سیاہ سیاست میں کہیں نہیں تھا۔ شاید اس لیے لوگوں کی ان کی باتیں عجیب معلوم ہوتی ہوں ۔ مگر خان صاحب نے آذان دے دی اور اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔ یہ تقریباَ 20 سال پرانی بات ہے۔

ہم نے ہمیشہ فیوڈرل کلاس سے بڑے بڑے دیوتا سیاست میں اترتے دیکھے تھے ، عام انسان تو لوکل سطح پر بھی سیاست میں نہیں آ سکتا تھا اور وہیں عمران خان ایک بڑے سفر کا سامان باندھ چکے تھے۔ مگر اس وقت نہ انہیں خود سیاست دانوں نے سیریز لیا اور نہ ہی عوام نے انہیں کوئی خاطر خواہ پزیرائی دی۔ مگر یہ سفر جاری رہا۔

جب مشروف کے دور میں نواز شریف کے ایم این اے اور ایم پی اے جگہ جگہ چھپتے پھر رہے تھے تو ان ہی دنوں کچھ سیاسی لوگوں سے میرا بھی رابطہ رہا۔ ماحول کچھ ایسا ہوتا تھا کہ ہر سیاسی کارکن کے ساتھ گن مین، باورچی، مالشیا اور سیکریٹری وغیرہ ساتھ ہوتے تھے اور سارے کے سارے لمبے چوڑے بڑے قد کے، لمبی لمبی موچیں اور لمبے لمبے بال اور شکل سے کم ہی پڑھے لکھے معلوم ہوتے تھے تو ایک سیاست دان سےمیں نے سوال کیا کہ سر آپ اپنے اردگرد پڑھے لکھے لوگ بھی تو رکھ سکتے ہیں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، بیٹا پھر ہم تو گھر ہی بیٹھ جائیں نا!

عمران خان کی شخصیت میں ایک میگنیٹک فورس ہے ، وہ جس بھی کردار میں ہوں لوگ ان کی طرف مائل ہوتے ہیں

میری آنکھیں تو بھیگ جاتی ہیں
پھر سے تیرے حسیں خیال کے بعد

اس کے بعد مشرف کا دور بھی چلا گیا اور پھر پی پی پی کا دور آیا اور وہ بھی چلا گیا اور اس کے بعد نون لیگ کا دور آیا اور وہ بھی چلا گیا۔ جو پڑھے لکھے لوگ گھر بیٹھے تھے اور جو کم پڑھے لکھے ان کی جگہ پر منسٹرز بنتے چلے آ رہے تھے۔ اور ایک طرف عمران خان صاحب تھے جو اس بساط کو ہی پلٹنا چاہتے تھے۔ اس دیوانے کا یہ تیسرا خواب تھا جسے اللہ تعالیٰ نے پھر تعبیر دے دی۔ اور اب ہم ایک ایسے موڑ پر ہیں جب پی ٹی آئی ایک بڑی جماعت بن کر نہ صرف اپنے آپ کو منوا چکی ہے بلکہ اپنی حکومت بھی تشکیل کرنے جا رہی ہے۔

سیاست ایک ایسا موضوع تھا جس میں پڑھے لکھے افراد نے کبھی دلچسپی نہیں لی اور نہ ہی کم پڑھے لکھے مسلط افراد نے پڑھے لکھے لوگوں کو اس میدان میں قدم رکھنے کی جگہ دی۔ عمران خان صاحب وہ پہلے شخص کے نہیں نے سیاہ سیاست کی بساط کو لپیٹا اور روشن سیاست کا نیا باب رقم کیا۔ مگر یہ تبدیلی ابھی بہت سے لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی کیوں کہ ہم نے سیاہ سیاست کے اتنے بروسٹ کھائے ہیں کہ ہمارا پورا نظامِ انہضام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ ناقابلِ علاج لوگوں میں بہت سے لوگوں کا علاج ہو چکا ہے اور بہت سے لوگوں کا علاج انقریب ہو ہی جائے گا۔ جب سورج کی پہلی کرن نمودار ہوتی ہے تو اندھیرا دم توڑنے لگتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سچائی کا سورج رات کے اندھیرے کو نگل جاتا ہے۔

عمران خان کی زندگی مثالی ہے، ایسے لوگ صدیوں تک اپنی چھاپ چھوڑ جاتے ہیں

یہاں زندہ دلوں پر ہی تو خوشیاں راج کرتی ہیں
اگر چھائی ہو مایوسی تو خوشحالی نہیں ہوتی

ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ عمران خان صاحب جو کہ رہے ہیں وہ کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ یہ ان مایوس لوگوں کا سوال ہوتا ہے جو تبدیلی کے خواب سے بھی ڈرتے ہیں۔ اگر سیاسی طور پر ایک کمزور ترین انسان ایک وزیراعظم بن کر ابھر سکتا ہے تو ایسا پر اسرار شخص کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جھوٹ سچائی کا راستہ روک پائے گا! ذرا اپنے دل سے پوچھئے کبھی جھوٹ جس کا اپنا کوئی راستہ نہیں ہوتا کیا اس میں اتنا دم ہوتا ہے کہ وہ سچائی کا مقابلہ کر سکے یا اس کا راستہ روک سکے۔
سورة الأنبياء (21) آیات (18)
بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَی الۡبَاطِلِ فَیَدۡمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ ؕ وَ لَکُمُ الۡوَیۡلُ مِمَّا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾
بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر پھینک مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ اسی وقت نابود ہو جاتا ہے ، تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعث خرابی ہیں ۔

عمران خان نے صرف سچ کی آواز اُٹھائی تھی پھر اللہ نے اس میں اتنی طاقت بھر دی کے وہ تمام سیاسی آقاؤں کے سر لے گئی۔ سچ کی یہی طاقت کے سچ یہی کرتا ہے اور سچ یہی کرتا رہے گا! نا امیدی جھوٹوں کا مقدر ہوتی ہے ۔

علی زیدی کے الفاظ کو سنہری حروف کے ساتھ لکھنا چاہیے
میں دعا کرتا ہوں میرا بچہ میرے لیڈر عمران خان کی طرح بن جائے ! آپ دعا کرو آپکے بچے الطاف حسین اور نواز شریف بن جائیں

میں مٹانے کے لئے آیا تھا شر یاں پہ وقار
شر پسندوں کے گنہ سب میرے سر پر پڑ گئے

اللہ یہ بھی فرماتا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور خان صاحب کی نیت اور جذبہ کسی کے ڈھکا چھپا نہیں۔ اللہ کی ذات اگر خان صاحب کو یہاں تک پہنچا سکتی ہے تو اس سے آگے بھی وہی لے کر جائے گی۔ عمران خان کے نئے سفر کا آغاز ہے ۔دعا ہے اللہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور جس خیر خواہی کا خواب انہوں نے اپنی قوم اور ملک کے لیے دیکھا ہے وہ اپنی حقیقت تک پہنچے!

امین یا رب العالمین!

یہ ملک جتنا عمران خان صاحب کا ہے اتنا ہی ہمارا بھی ہے تو ہمیں بھی اسی جذبے سے اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

ماہ آزادی کے نام ایک نظم:

اپنا حصہ ڈالیں

اپنا حصہ ڈالیں

عجب ہو کا عالم ہے
بدحالی ہی بدحالی ہے
وقت ظلمت کا پروانہ ہے
کوئی آس کی بات کریں

اپنا حصہ ڈالیں

رنج و الم کا موسم ہے
ہر شخص ہی دکھی ہے
اپنے حصے کا غم بانٹیں
اپنے حصے کی خوشی تقسیم کریں

اپنا حصہ ڈالیں

زمینیں بنجر ہو گئی ہیں
بلا کی خوشک سالی ہے
اپنے حصے کا پانی ڈالیں
اپنے حصے کی فصل بوئیں
اپنا حصہ ڈالیں

اندھیرا ہی اندھیرا ہے
کوئی امید کی کرن نہیں
اپنے حصے کا دیا جلائیں
اپنے حصے کی روشنی کریں

اپنا حصہ ڈالیں

اگست آزادی کا مہینہ ہے
ہم خود سے بھی آزاد نہیں
اپنے حصے کے قفل توڑیں
ہم خود کو تو آزاد کریں

اپنا حصہ ڈالیں

ہمیں شکوے ہزاروں ہیں
ہمیں ہزاروں گلے ہیں
یہ آزادی ہمارا حصہ ہے
کیوں ہم شکر گزار نہیں

شاعر: میاں وقارالاسلام

میاں وقارالاسلام
WWW.MIANWAQAR.COM
ڈائیرکٹر آپریشنز
نیازی گروپ آف کمپنیز پرائیویٹ لمیٹڈ
WWW.NIAZIGROUP.COM
پرنسپل کنسلٹینٹ ، مارول سسٹم
پریزیڈینٹ، مارول سسٹم انوسٹمنٹ فیڈریشن
MARVELSYSTEM.COM
رابطہ نمبر: 03004102774